حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 339 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 339

ہے کہ اس نے خدا کی عبادت کو طبلوں۔مزماروں۔سارنگیوں اور بربطوں سے پاک کر دیا! اﷲ کے ذکر کی مسجدوں کو رقص و سرود کی محفلیں نہیں بنایا! اور یہاں تک احتیاط کی کہ تصاویر اور مجسمّہ بنانے کی اور مسجدوں میں مُوہم بِالشرک نقش و نگار کرنے کی قطعی ممانعت کر دی! کہ ایسا نہ ہو یہی مجاز رفتہ رفتہ مبدّل بحقیقت ہو کر اور یہی مجسمی معبودی تماثیل بن کر توحید کے پاک چشمے کو مکدر کر ڈالیں۔جب ہم ایک خوش قطع گرجا میں عیسائی جھنڈ کو بزعم عبادت جمع ہوئے دیکھتے ہیں۔سجے سجائے بنے ٹھنے۔نیٹورنیاں اور گوری گوری یورپانیاں قرینے سے کرسیوں پر ڈٹی ہوئیں۔اس وقت ہمیں عیسائیوں کا یہ فقرہ’’ کہ مسلمانوں میں صرف رسمی اور مجازی عبادتہے بڑا حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے۔یقینا اہلِ اسلام کی غیُّور طبیعت نصاریٰ کی اس حقیقت سے آشنا ہونے کی کبھی کوشش نہیں کرے گی۔(فصل الخطاب حصّہ دوم ایڈیشن دوم صفحہ۱۲۳) نماز ظاہری پاکیزگی ،ہاتھ منہ دھونے اور ناک صاف کرنے اور شرمگاہوں کو پاک کرنے کے ساتھ یہ تعلیم دیتی ہے۔کہ جیسے میں ان ظاہری پاکیزگی کو ملحوظ رکھتا ہوں۔اندرونی صفائی اور پاکیزگی اور سچّی طہارت عطا کر اور پھر اﷲ تعالیٰ کے حضور سُبحانیّت۔قدو سیّت۔مجدّدیت پھر ربوبیّت۔رحمانیّت رحیمیّت اور اس کے ملک و ملک میں تصرّفات اور اپنی ذمّہ داریوں کو یاد کرکے کہ اس قلب کے ساتھ ماننے کو تیار ہوں سینہ پر ہاتھ رکھ کر تیرے حضور کھڑا ہوتا ہوں۔اس قسم کی نماز جب پڑھتا ہے تو پھر اس میں وہ خاصیت اور اثر پیدا ہوتا ہے۔جو میں بیان ہوا ہے پھر پاک کتاب کا کچھ حصّہ پڑھے اور رکوع کرے اور غور کرے کہ میری عبودیت اور نیازمندی کی انتہاء بجُز سجدہ کے اور کوئی نہیں۔جب اس قسم کی نماز پڑھے تو وہ نیازمندی اور سچائی جب اعضاء اور جوارح پراپنا اثر کر چکی تو اور جوش مار کر ترقی کرے گی اور اس کا اثر مال پر پڑے گا۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵) ۴۷۔