حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 338 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 338

: مباحثہ میں ایک رنگ پر نہ رہنے والا آدمی جھوٹے مذہب کا پَیْرو ہوتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۲ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۴۴۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کیلئے بیان کرتے ہیں اور انہیں عَالِم ہی سمجھتے ہیں۔(نورالدین طبع ثالث صفحہ۱۳ دیباچہ) ۴۶۔   : پڑھا کر : سمجھاتا ہے۔کہ صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ عملی رنگ بھی ہو۔: میرے ذوق میں اس کے یہ معنے ہیں کہ اس نماز کے اجر میں اﷲ جو تمہیں یاد کرے گا۔وہ اس (صلوٰۃ) سے بہت بڑا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۷) : آجکل کے مسلمان زندوں کوتو سناتے نہیں البتّہ قبروں پر مردوں کو سناتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۳ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) تُو پڑھ جو اتری ہے تیری طرف کتاب اور کھڑی رکھ نماز بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی سے اور بُری بات سے اور اﷲ کی یاد ہے سب سے بڑی اور اﷲ کو خبر ہے جو کرتے ہو۔(اس آیت) سے نماز کی علّتِ غائی خوب ظاہر ہوتی ہے کہ نماز منکرات اور فواحش سے محفوظ رہنے کیلئے فرض کی گئی ہے اگر نماز کی اقامت اور مداومت سے نمازی کے اقوال و افعال میں کچھ روحانی ترقی نہیں ہوتی۔تو شریعت اسلامی ایسی نماز کو مستحق درجات ہرگز نہیں ٹھہراتی۔اب مجاز و ظاہر کہاں رہا۔نبیٔ عرب علیہ الصلوٰۃ کیلئے کچھ کم فخر کی بات نہیں اور اس کے خدا کی طرف سے ہونے کی قوی دلیل