حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 332
یہ حکم دیا ہے۔ان کے کفرو اسلام اور فِسق و فجور یا دشمنِ اسلام وغیرہ ہونے کی کوئی قید نہیں لگائی اور ہر حالت میں ان کی فرمانبرداری کا تاکیدی حکم دیا ہے۔مگر پھرمقابلہ کے وقت ان کے متعلق بھی فرما دیا کہ ۔اگر خدا کے مقابلہ میں آجاویں تو خدا کو مقدّم کرو۔ان کی ہرگز نہ مانو… غرض نفس ہو یا دوست ہوں۔رسم ہو یا رواج ہوں۔قوم ہو یا ملک ہو۔ماں باپ ہوں یا حاکم ہوں۔جب وہ خدا کے مقابلہ میں آجاویں یعنی خدا ایک طرف بلاتا ہے اور یہ سب ایک طرف تو خدا کو مقدّم رکھو۔(الحکم ۱۰؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ۲) ۱۲۔ : علم دو قسم ہے۔ایک ازلی قبل از وجود اشیاء۔دومؔ ساتھ ساتھ جب چیز جو حادث ہو۔یہ دوسرا علم ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۲۷۲ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۳۔ : کئی پِیرایسے پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے پیرؤوں کو ایسے فقرے کہہ کہہ کر گناہ پر دلیر کر دیاہے۔ان کا انجام بد ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۶) ۱۴۔