حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 330
سچ ہے کہ جو لوگ کچّے غیر مستقل مزاج۔کم ہمّت اور منافق طبع ہوتے ہیں وہ الگ ہو جاتے ہیں صرف مخلص۔وفادار۔بلند خیال اور سچّے مومن رہ جاتے ہیں۔جو ان ابتلاؤں کے جنگلوں میں بھی امتحان اور بلاء کی خاردار جھاڑیوں پر دوڑتے چلے جاتے ہیں۔وہ تکالیف اور مصائب ان کے ارادوں اور ہمّتوں پر کوئی بُرا اثر نہیں ڈالتے۔ان کو پست نہیں کرتیں بلکہ اور بھی تیزکر دیتی ہیں۔وہ پہلے سے زیادہ تیز چلتے اور اس راہ میں شوق سے دوڑتے ہیں۔نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ وہ بلائیں وہ تکالیف و ہ مصائب۔وہ شدائد خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضل اور کرم اور رحمت کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔اور وہ کامیابی کے اعلیٰ معراج پر پہنچ جاتے ہیں۔اگر ابتلاؤں کا تختۂ مشق نہ ہو۔تو پھر کسی کامیابی کی کیا امید ہو۔دنیا میں بھی دیکھ لو۔ایک ڈگری حاصل کرنے کے واسطے اے۔بی۔سی شروع کے زمانہ سے لے کر ایم۔اے کے امتحان تک کس قدر امتحانوں کے نیچے آنا پڑتا ہے۔کس قدر روپیہ اُس کے واسطے خرچ کرتا ہے۔اور کیا مشکلات اور مشقتیں برداشت کرتا ہے۔باوجود اس کے بھی یہ یقینی امر نہیں ہے کہ ایم۔اے پاس کر لینے کے بعد کوئی کامیاب زندگی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔بسا اوقات دیکھا جاتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ تعلیم میں طالب علم کی صحت خطرناک حالت میں پہنچ جاتی ہے اور ڈپلومہ اور پیامِ موت ایک ہی وقت آ پہنچا ہے۔اس محنت اور مشقّت اور ان امتحانوں کی تیاری، روپیہ کے صرف سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا یا والدین نے کیا؟مگر اس کے بالمقابل اﷲ تعالیٰ کیلئے ابتلاؤں اور امتحانوں میں پڑنے والا کبھی نہیں ہوتا کہ وہ کامیاب نہ اترا ہو۔اور نامراد رہا ہو۔ان لوگوں کی لائف پر نظر کرو اور ان کے حالات پڑھو جن پر خدا تعالیٰ کے مخلص بندے ہونے کی وجہ سے کوئی ابتلاء آیا اور انہوں نے ثباتِ قدم استقلال اور صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور پھر بامُراد نہ ہوئے ہوں۔ایسی ایک بھی نظیر نہ ملے گی۔(الحکم ۱۰؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴) دنیاوی علوم و فنون کی تحصیل کے لئے غور کرو۔کہ ابجد شروع کر کے ایم اے کی ڈگری تک پھر امتحان مقابلہ۔ڈالیاں دینے اور دوسرے اخراجات ضروریہ، خرید کتب وغیرہ میں کس قدر محنت۔وقت اور روپیہ صرف ہوتا ہے۔اور ہم کرتے ہیں۔مگر اس کے بالمقابل قرآن کریم کو اپنا دستورالعمل بنانے کے واسطے ہم اس کے پڑھنے اور سمجھنے کے واسطے کس قدر محنت اور کوشش اور روپیہ ہم نے خرچ کیا ہے ؟ اس کا جواب یہی ہو گا کہ کچھ بھی نہیں۔اگر اس کے واسطے ہم عُشرِ عَشِیْر بھی خرچ کرتے تو خدا تعالیٰ کے فضل و رحمت کے دروازے ہم پر کھُل جاتے۔مسلمانوں کے اِفْلَاس ان کی تنگ دستی اور قَلَّاشی کے اسبابوں پر آئے دن انجمنوں اور کانفرسوں میں بحث ہوتی ، اوربڑے بڑے لیکچرار