حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 315 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 315

 : ہندو تو جہاں لڑکی دیں وہاں سے پانی بھی حرام سمجھتے ہیں ان کی دیکھا دیکھی بعض مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔میرے نزدیک داماد سے کچھ لینا جائز ہے۔صوفیوں نے لکھا ہے۔نبوّت کی تیاری کیلئے آپ اتنے برس رکھے گئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۳) ۳۰۔   جو لوگ منصوبے باندھنے کے عادی ہیں کہ یوں کریں گے اور پھر یُوں کریں گے پھر یوں ہو جائے گا یہ سب نامراد رہتے ہیں۔شیخ چلّی کی کہانی ہمارے ملک میں کسی پاک نے سنائی ہے۔یہ ایسے لوگوں کے لئے عبرت دِہ ہے۔اﷲ تعالیٰ کا فضل ایسے لوگوں کے شامل حال رہتا ہے۔جو حضرت موسٰیؑ سی طبیعت رکھتے ہیں۔آپ کے اندر کوئی خواہش نہ تھی کہ میں نبی بن جاؤں۔اﷲ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی۔: اپنے ساتھ والوں کو کہا۔یُوں ترجمہ میں نے اس لئے کیا کہ تورات کے بیان میں جو اُلجھن ہے وہ دور ہو جائے۔: ان امراء کیلئے یہ نمونہ شرم دلانے والا ہے۔دیکھو امیرِ قافلہ خود کام کرتا ہے اور اپنے کسی خدمتگار کو نہیں کہتا۔ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ایسا کرتے تھے۔ایک دفعہ صحابہ کرامؓ کے ساتھ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سفرمیں تھے سب نے اپنے اپنے ذمّے ایک ایک کام لیا آپؐ نے فرمایا میں تم سب کے لئے لکڑیاںلے آتا ہوں۔چنانچہ آپ لائے۔یہ سنّت ہے نبیوں کی۔اب تو ذرا کسی کی تنخواہ بڑھ جائے تو وہ معمولی کام کرنا اپنی ہتک سمجھتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۳)