حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 307 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 307

پس لِکُلِّ فِرْعَوْنَ مُوْسٰی کے مطابق موسٰیؑ کا ذکر مومنوں کیلئے بہت مفید ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۱ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۵۔   تکبّر خدا تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فرعون نے علوّ کیا۔تکبّر کیا۔بنی اسرائیل کو ذلیل سمجھا۔مسلمانوں میں بھی جب سلطنت آئی۔تو ان میں علوّپیدا ہو گیا۔اور یہی موجب ان کے زوال کا ہوا۔دیکھو مسلمانوں کے سب گھروں میں چوہڑوں کی آمد و رفت ہے۔وہ ان کے گھر کی صفائی کرتے ہیں۔مگر ان کو کبھی ان پر رحم نہیں آتا۔ان کی اصلاح کا کوئی خیال ان کے دلوں میں نہیں آتا۔ان کو حقیر جانتے ہیں اور اسی حالت میں ان کو چھوڑ رکھا ہے میں دیکھتا ہوں کہ ملک کے بعض حصّوں میں یہ قوم اب ترقی کر رہی ہے۔بعض ان میں سے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ چکے ہیں۔کسی کی حقارت نہیں کرنی چاہیئے۔ایک سیّد صاحب کا حال معلوم ہے۔کہ وہ اپنی ذات کو اتنا بڑا جانتے تھے۔کہ اپنے شہر کے کسی سیّد کو اپنی لڑکی دینا پسند نہ کرتے تھے۔اور چونکہ وہ کسی کو لڑکی نہ دیتے تھے۔ان کے لڑکے کو بھی کوئی لڑکی دینا پسند نہ کرتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا۔کہ ان کا بیٹا اور بیٹی ہر دو عیسائی ہو گئے۔اور ان کی لڑکی نے ایک چمار نَو عیسائی کے ساتھ شادی کر لی۔یہ بیان عبرت کیلئے ہے۔غرض اور کی حقارت کرنا بہت بُری بات ہے۔(بدر ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۴) ۶۔  : اس میں سمجھایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے تئیں ضعیف بنا لیں۔غضب سے کام نہ لیں۔ہم خود ان کے ناصر و معاون بن جاتے ہیں۔