حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 306
۱۹۱۰الْقَصَصِ مَکِّیَّۃ ۲،۳۔ : لطیف۔سمیع۔مجید خدا۔: یہ وہ کتاب ہے جو حق کو باطل سے جدا کرتی ہے۔حلال کو حرام سے الگ کر کے دکھاتی ہے۔پہلی کتاب کی سچائی کو اس میں شامل شدہ باطل اور تحریف سے الگ کر دیتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۲) ۴۔ :بات کہنے کو تو موسٰیؑ و فرعون کی کہی ہے مگر دراصل () مومنوں کو سمجھایا ہے کہ تم باہمی جنگ و جدل نہ کرنا۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم بہت ہی امن دوست تھے۔اس لئے فرمایا۔لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ اَعْنَاقَ بَعْضٍ۔اور فرمایا۔اَلْقَاتِلُ وَ الْمَقْتُوْلُ کِلَاھُمَا فِی النَّارِ۔مگر افسوس ہے کہ بعض مسلمانوں میں پھر بھی باہم جنگ ہوئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۲) چونکہ نبی کریمؐ کو مثیلِ موسٰیؑ فرمایا۔اس لئے حضرت موسٰیؑ کا ذکر قرآن مجید میں بہت آیا ہے دومؔ اس لئے کہ وہ صاحبِ شریعت تھے۔سومؔ اس لئے کہ ؎ نفس ہر یک کمتر از فرعون نیست لیک اُوراعون مارا عون نیست