حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 269 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 269

جیسے کہ آجکل یوروپ و امریکہ کا حال ہے۔ان کی دولتمندی کا یہ حال ہے۔کہ سنکھ در سنکھ تک کوئی چیز نہیں۔اور عرب میں تو بس۱۔۱۰۔۱۰۰۔۱۰۰۰ تک ہے۔حضرت مسیحؑ نے کہا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزرنا آسان ہے۔پر دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔اسی واسطے انبیاء کے متّبعین غریب لوگ ہوتے ہیں اور نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت نوحؑ کو بھی کہا۔: حضرت نوحؑ سمجھاتے ہیں۔کہ ان غریبوں نے کوئی ایسا عمل کیا جس سے ان کو نبی کی متابعت کی سعادت حاصل ہوئی اور تم نے کوئی ایسا عمل کیا جس کی وجہ سے خدا نے تمہیں یہ توفیق نہ بخشی اور تم منکرانِ رسالت سے ہوئے۔انسان کا سلسلۂ اعمال چلتا ہے اور اس سلسلہ کے مطابق اعمال کا پھل انسان کو ملتا ہے۔خشتِ اوّل چوں نہد معمارِ کج تا ثریّا می رَوَدْ دیوارِ کج اسی واسطے یہ دعا ہر خطبہ جمعہ میں پڑھی جاتی ہے۔نَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئٰاتِ اَعْمَالِنَا کہ ہمیں اعمال کے بد نتائج سے محفوظ رکھ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۷) ۱۱۸۔ : یہ (الشّعرآء:۱۱۷)کے مقابلہ میں انبیاء کا ہتھیار ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۸) ۱۲۷۔ : جو لوگ نبیوں کی اطاعت کے منکر ہیں۔وہ غور کریں یہاں تو رسول بمعنے کتاب اﷲ نہیں ہو سکتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۸) ۱۲۹،۱۳۰۔