حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 24
: ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی ہیں۔: ہر ایک عمدہ بات۔: جھگڑنے میں۔ایسے ہی لوگوں نے انبیاء علیھم السلام کو اس قسم کے کلمات بولے ہیں کہ (مومنون:۲۵)یہ تو ہمارے ہی جیسا ایک انسان ہے اور بس۔(مومنون:۲۵)چاہتا ہے کہ تم پر بڑا آدمی بن جائے۔شاعر ہے، ساحر ہے، کاہن ہے، مجنون وغیرہ۔بعض لوگ ہدایت سے ایسے بے نصیب ہوتے ہیں کہ جب انہیں کوئی نیکی کی راہ بتلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم نبی ہیں یا ولی کہ ایسے کام کریں۔اور اگر بدی سے روکا جاوے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم فرعون ہیں جو ہم کو ایسی نصیحت کی جاتی ہے اور بہر حال اپنی ہی رائے کو بڑا سمجھتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۸ ، ۱۵۹) ۵۶۔ : کس چیز نے روکا۔کیا مطلب۔کسی چیز نے نہیں روکا۔اگر روکا ہے تو ان کے شامتِ اعمال نے ہی روکا ہے۔عذاب جو اُن پر آنا تھا تو اب استغفار کیسے کریں۔: اس کے تین معنے ہیں ۱۔فَجَائَۃً اچانک ۲۔عَیَانًا۔ظاہر ۳۔سامنے (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ۱۵۹ ) ۵۷۔