حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 264
لیا حالانکہ وہ نصف اسی درہم کا نہیں بلکہ دوسرے درہم کا نصف ہے جو اس پہلے کی مثل ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۷) ۶۲،۶۳۔ : یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ رُوْیَت اور چیز ہے اور ادراک اور () : میرا رب مجھے کوئی راہ مخلصی کی بتا دے گا۔یہاں ایک صوفیانہ نکتہ ہے کہ ابوبکرؓ صدیق نے بھی جب غار میں کہا تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا(توبہ:۴۰)اور حضرت موسٰیؑ کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۷) ۶۴۔ :ایک مقام پر(البقرۃ:۶۱) کی وحی ہوئی۔اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔اپنے عصا کو بحر یا حجر پر مارو۔اور ایک ترجمہ یوں کرتے ہیں۔اپنی جماعت کو سمندر میں سے لے چل۔چنانچہ دوسرے مقام پر فرمایا (طٰہٰ:۷۸)ان کیلئے ایک خشک راستہ پڑا ہے۔وہاں سے نکال لے جاؤ۔: یعنی وہاں دریا پھٹا پڑا ہے۔خشک ہو چکا تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۷) یہ کہ رات کو لے چل۔میرے بندوں کو۔پھر چل ان کیلئے ایک خشک راہ پر جو دریا میں ہے۔مت ڈریو کسی کے احاطہ سے اور نہ کسی قسم کا خوف کرنا۔چل اپنی فرماں بردار جماعت کیساتھ اس بحر میں۔پس وہ کُھلا تھا