حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 263

انبیاء کا بھروسہ اپنے جتّھے پر نہیں ہوتا۔حضرت موسٰی علیہ السلام کا واقعہ اس بات کا شاہد ہے کہ آپؑ فرعون ایسے عظیم الشان بادشاہ کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہوئے۔: یہ نبی کریمؐ کو سنایا ہے۔کہ آپؐ بھی اور آپؐ کے ساتھ والے مکّہ سے چل دو۔تمہارا بھی پیچھا کیا جاوے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔دشمنوں نے پیچھا کیا مگر ان کا حشر فرعون کی مانند ہوا۔راستبازوں کی عداوت کبھی نیک نتیجہ نہیں لاتی یہاں تک کہ ان کی اولاد میں بھی نیک نتیجہ نہیں نکلتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(الشمس:۱۶) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍ جولائی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۶۔۱۸۷) ۵۵۔ : جماعت :خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(البقرۃ:۲۴۴) کئی ہزار تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۷) ۵۶ تا۶۰۔ : چوکس۔باسازوسامان : دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑنے اپنی جماعت کو جب ایک علاقہ میں فتح کیلئے جانے کو کہا تو انہوں نے جواب دیا :(المائدہ:۲۵)حضرت موسٰی علیہ السلام کو بہت رنج ہوا۔تو دُعا کی۔(المائدہ:۲۶) جس کی وجہ سے چالیس سال جنگل میں سرگردان رہے پھر تاریخ شہادت نہیں دیتی کہ بنی اسرائیل مصر کے مالک ہوئے۔پس مراد یہ ہے۔کہ ملکِ مصر کی مثل دئے گئے گویا ضمیر مثل کی طرف پھیری گئی۔جیسے اَخَذْتُ دِرْھَمًا وَ نِصْفَہٗ میں نے ڈیڑھ درہم