حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 255

واہ وہ کیسے آرام کی جگہ اور رہنے کا مقام ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۶۴) ۷۸۔  او مخاطب کہہ دے۔میرے رب کو تمہارے ہلاک و تباہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اگر تمہاری بُت پرستی نہ ہوتی مگر تم تو راستی کو جھٹلا چکے۔پس نافرمانی کا لازمی وبال تم پر ضرور آنے والا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۶۴) اس میں بتایا ہے کہ رحمان کے پیارے۔رحمان کے پرستار کون ہیں؟ دیکھو۔اس وقت تم بیٹھے ہو۔سب کی آوازوں میں اختلاف۔لباسوں میں اختلاف۔مکانوں میں اختلاف۔صحبتوں میں اختلاف۔مذاقوں میں اختلاف۔غرض اختلاف ایک فطری امر ہے۔اب خدا ہی کا فضل ہے۔کہ تم ایک وحدت کے نیچے آ گئے۔میں کبھی گھبرایا نہیں کرتا کہ فلاں شخص کو کیوں ہمارا خیال نہیں۔کیونکہ میرے مولیٰ کا ارشاد ہے۔(ھود:۱۱۹۔۱۲۰)پس جس پر فضل ہواوہ اختلاف سے نکل کر وحدتِ ارادی کے نیچے آ جائے گا۔اس رکوع میں اﷲ تعالیٰ ان باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن پر چل کر انسان اختلاف سے بچ سکتا ہے۔گالی کا جواب گالی۔یہ جواں مردی کی بات نہیں۔جو ایک گالی پر صبر نہیں کرتا۔اسے آخر پھر سو گالیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے۔اختلاف تو بے شک ہوتے ہیں۔کیونکہ ہماری فطرتوں میں اختلاف ہے۔مگر عبادالرحمان کا طریق یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنی روش سکینت و وقار کی رکھتے ہیں۔تکبّرتجبّر و عصیان سے کام نہیں لیتے۔بھاری بھر کم رہتے ہیں۔وہ ہر معاملہ میں صبر۔عاقبت اندیشی سے کام لیتے ہیں۔کیونکہ اختلافوں سے بچنے کی راہ ھَوْن ہے۔میرا ایک استاد تھا۔اس نے مجھے نصیحت کی کہ دنیا میں سُکھی رہنا چاہتے ہو تو اپنے تئیں ایسا نہ بناؤ کہ اپنے خلاف ہونے سے گھبرا جاؤ اور دوسروں سے لڑنے لگو۔رحمان کے پرستار رحما ن کے پیارے وہ ہیں جو سخت بات سُننے پر سلامتی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔دوئمؔ وہ رات عبادت میں گزار دیتے ہیں۔کبھی کھڑے ہو کر جنابِ الہٰی کو راضی کرتے ہیں۔کبھی سجدہ میں پڑ کر۔سوئمؔ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعائیں مانگتے ہیں۔اپنے مولیٰ کے آگے گڑ گڑاتے ہیں۔چہارمؔ۔وہ ان لوگوم کی طرح نہیں جو روپیہ ہاتھ لگنے پر جھٹ ناجائز جگہ پر خرچ کر دیتے ہیں۔بلکہ سوچ سمجھ کر