حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 239 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 239

مثلاً توحید اور عبادت اور طاعت اور اتفاق اور صحیح کوشش اور چُستی کو جن ثمرات اور پھلوں کا درخت بنایا ہے۔ممکن نہیں کہ وہی پھل اور وہی ثمرات شرک اور ترکِ عبادت اور بغاوت اور باہمی نفاق اور تفرق اور غلط کوشش اور سُستی سے حاصل ہو سکیں۔جن باتوں کیلئے تریاق کا استعمال ہوتا ہے اُن باتوں کیلئے زہر مار سے کام نکلنا دشوار کیا محال ہے ع گندم از گندم بروید جَوزِ جَو گناہ اور جرائم کے ارتکاب سے نیکی اور فرماں برداری کے انعامات کو طلب کرنا بے ریب تقدیر اور خدائی اندازے کے خلاف ہے۔اور نیکی اور فرماں برداری پر دوزخ میں جانے کا یقین بے شبہ رحیم اور کریم۔عادل ذات پاک پر ظلم کا الزام قائم کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے۔(السجدہ:۱۹) بھلا ایک جو ہے ایمان پر برابر ہے اس کے جو بے حکم۔نہیں برابر ہوتے۔(ص ٓ:۲۹) کیا ہم کریں گے ڈروالوں کو برابر ڈھیٹھ لوگوں کے۔اسلام تقدیر کے مسئلے پر یقین دلا کر اہلِ اسلام کو اس بات پر اُبھارتا ہے کہ بُرے کاموں کے نزدیک مت جاؤ۔بُرے بیج بُرا پھل لاتے ہیں۔آرام و آسودگی کے سامان مہیّا کرو۔بے دل مت ہو۔کیونکہ ہر ایک چیز کا اندازہ خدا کی درگاہ سے معیّن ہو چکا ہے۔نقصان کے اندازے والی چیزیں نافع نہ ہوں گی۔اور منافع کی مثمر اشیاء دُکھوں کی موجب نہ ہوں گی۔ہر ایک چیز اپنی فطرت پر ضرور قائم ہے اور تمہارا ہر فعل وجوباً وہی نتیجہ دے گاجو اس کی ترکیب کا مقتضاء ہے… آدمی کے اعمالِ بد اور افعالِ مکروہ سے آدمی پر وبال آتا ہے۔جب ہر ایک تکلیف کا سر چشمہ گناہ ٹھہرا۔جب ہر ایک گناہ کا نتیجہ تکلیف ٹھہری تو منصفو! بے جا تعجّب میں ہلاک نہ ہونے والو۔قیامت میں نجات کے امیدوارو۔راستی پسندو۔سوچو اور اندازہ کرو کہ حسبِ تعلیمِ قرآن حضرت انسان کو گناہ سے کیسی نفرت ضرور ہے۔اور آدمی کو خدا کی نافرمانی سے بچنا کیسا لابد ہوا۔بھلائی کے لینے میں اور برائی سے بچنے کیلئے مسلمانوں۔قرآن کے ماننے والوں کو کیسی تاکید ہوئی۔جب ہر ایک تنزّل اور مصیبت گناہ کا نتیجہ ہوا۔تو اہلِ اسلام کو کہاں تک ترقی کرنے اور عصیان الہٰی سے بچنے کی سعی کرنی چاہیئے۔جن نافہم لوگوں نے کہا ہے کہ گناہ کو مسلمان ایک خفیف حرکت اور وہ بھی خدا کی طرف سے مان کر گناہ میں بے باک ہیں۔وہ سوچیں کہ ان کی بات کچھ بھی راست ہے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۱۵۳ تا ۱۵۸) وہ جس کیلئے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمینوں کی اور جس نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور