حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 237
سوا کون ہے۔پس وہ ہر ایک چیز کا خالق اﷲ ہی ہے۔(نور الدّین طبع ثالث صفحہ۲۸ دیباچہ) تقدیر۔تدبیر اور امتحان تو سب سچّے مسئلے ہیں اور مطابقِ واقعہ ہیں اور تمام نظامِ عالم اور انسانی افعال و اعمال میں نظر آ رہے ہیں۔انہیں ڈھکوسلا کہنا اپنی عقلمندی کا ثبوت دینا ہے۔سنو!تقدیر کے معنی ہیں اندازہ بتا دینا اس کا ثبوت قرآنِ کریم میں یہ ہے…کیا معنے؟ ہر ایک چیز کو اﷲ تعالیٰ نے بنایا پھر اس ہر چیز کے لئے ایک اندازہ اور حد مقرر کر دی کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے ماسوا سب محدود اور اس کے احاطہ کے ماتحت ہے۔اب غور کر لو کہ یہ مسئلہ ڈھکوسلا ہے یا تمام ترقیاتِ دینی اور دنیوی اسی تقدیر اور اندازہ سے ہو رہی ہیں مگر اس کو نہ مانا جاوے تو نہ دین رہے اور نہ دنیا۔مثلاً ہم اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرماں برداری اس لئے کرتے ہیں کہ اس کا اندازہ یہی ہے کہ ان باتوں کا نتیجہ ہمارے حق میں نیک اور عمدہ ہو گا۔اگر اس اندازہ پر ایمان نہ ہو تو پھر نیکی کیوں کی جاوے۔غرض اس آیت نے بتایا ہے کہ ہر ایک عمل نتیجہ خیز ہے۔اور بڑے علیم و حکیم نے تمام کارخانہ مضبوط علمی رنگ کا بنایا ہے۔اس میں کوئی حرکت اور سکون عبث اور بے نتیجہ نہیں۔یہ آیت ہر شخص کو چُست اور کارکن بننے کی حد سے زیادہ ترغیب دیتی ہے۔کس قدر نابینائی یا اعتراض کرنے کی ٹھیکہ داری ہے کہ ایسے حقائق کو ہنسی اور نکتہ چینی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کاش لوگ سمجھیں کہ اس نئے گروہ کو راست بازی سے کس قدر تعلق ہے؟ اور ان کی عملی حالت کیا؟ اور تدبیر کا مسئلہ تو ایسا صحیح ہے کہ دیندار اور بے دین اﷲ تعالیٰ کو ماننے والے اور نہ ماننے والے سب اس مسئلہ کو ضروری اور واجب العمل یقین کرتے ہیں۔اور تدبیر کے معنے ہی یہی ہیں۔کہ تقدیر کے مطابق تہیّۂ ۱؎ اسباب کیا جاوے… اور امتحان کے اصل معنے ہیں۔محنت کا لینا۔ایک دنیادار امتحان کیلئے اخذِ امتحان کے جواب مثلاً دیکھتا ہے تواس لئے کہ طالبعلم کی محنت کا اس کو پتہ لگ جاوے اور محنت کا نتیجہ اس کو دے۔اور اﷲ تعالیٰ یہی امتحان لیتا ہے۔یعنی محنت کرانا چاہتا ہے۔سُستی کو ناپسند کرتا ہے۔ہاں علیم و خبیر ہے جب کوئی محنت کرتا ہے جیسے کوئی محنت کر ے ویسی ہی جنابِ الہٰی سے محنت کرنے کا بدلہ ملتا ہے