حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 226
پیدا ہونے والے تھے۔عملی رنگ میں اس کے سوا دوسرا منتخب نہیں ہوا۔اور پھر جیسا کہ عام انسانوں اور دنیاداروں کا حال ہیکہ وہہر روز غلطیاں کرتے اور نقصان اٹھاتے ہیں اور آخر خائب اور خاسر ہو کر بہت سی حسرتیں اور آرزوئیں لے کر مر جاتے ہیں۔لیکن جنابِ الہٰی کا انتخاب بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے اس کو کوئی ناکامی پیش نہیں آتی۔وہ جدھر مُنہ اٹھاتا ہے۔ادھر ہی اس کے واسطے کامیابی کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔اور وہ فضل۔شفاء۔نور اور رحمت دکھلاتا ہے۔(الحکم ۱۷؍فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۵) ہمارا انتخاب آخر غلط ہوتا ہے۔اس کو معزول کرنا پڑتا ہے۔زندگی اور موت ہی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ممکن ہے کہ ایک کو منتخب کریں اور رات کو اس کی جان نکل جاوے۔میرے استاد کہتے تھے۔سعادت علی خان نے کئی کروڑ روپیہ ہند کے واسطے انگریزوں کو دیا کہ اُسے دیدیں۔کہتے ہیں جب عمل درآمد کیلئے کاغذات پہنچے تو رات کو جان نکل گئی۔یہ مشکلات ہیں جو ہمارے انتخاب درست نہیں ہو سکتے۔اس لئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔۔یہ خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے کہ کسی کو خلیفہ بنا دے۔پس کسی دلیل کی حاجت نہیں۔تم سمجھتے ہو کہ بنی ہاشم نے بڑی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے۔خدا نے جس کو بنانا تھا اُس کو بنا دیا۔۱؎ اسی امّت سے خلیفہ ہونا اور خلیفہ کاتقرّر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہونا ہی قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے۔اور اگر خلیفہ بننا بہت کتابوں کے پڑھ لینے پر ہوتا تو چاہیئے تھا کہ میں ہوتا۔میں نے بہت کتابیں پڑھی ہیں۔اور کثیرالتعداد میرے کتب خانہ میں ہیں۔مگر میں تو ایک آدمی پر بھی اپنا اثر نہیں ڈال سکتا۔غرض خدا تعالیٰ کا وعدہ آپ ہی منتخب کرنے کا ہے۔کون منتخب ہوتا ہے۔(الانعام:۱۲۵)جو شخص خلافت کیلئے منتخب ہوتا ہے۔اس سے بڑھ کر دوسرا اس منصب کے سزا وار اس وقت ہرگز نہیں ہوتا۔کیسی آسان بات تھی کہ خدا تعالیٰ جس کو چاہے مصلح مقرر کر دے۔پھر جن لوگوں نے خدا کے ان مامور کردہ منتخب بندوں سے تعلق پیدا کیا۔انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کی پاک صحبت میں ایک پاک تبدیلی اندر ہی اندر شروع ہو جاتی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلّقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی آرزو پیدا ہونے لگتی ہے۔(الحکم۱۷؍ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ۳) کس قسم کا خلیفہ ہو۔اس کا بنانا جنابِ الہٰی کا کام ہے۔آدم کو بنایا تو اس نے۔داؤد کو بنایا ۱؎ الحکم ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ۸