حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 225
وعدہ ابراہیمؑ سے ہوا ) جیسے خلیفہ بنایا ان کو جو ان اسلامیوں سے پہلے تھے اور طاقت بخشے گا انہیں اس دین پھیلانے کیلئے جو اﷲ تعالیٰ نے ان کیلئے پسند فرمایا۔اور ضرور ہی بدل دے گا انہیں خوف کے بعد امن سے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۵۔۱۶) اﷲ کی نعمت کی قدر کرو۔اس نے خاتم الانبیاء بھیجا۔کتاب بھی کامل بھیجی۔کتاب کے سمجھانے کا خود وعدہ کیا اور ایسے لوگوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا جو آآکر خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔اس زمانہ ہی کو دیکھو کہ کا وعدہ کیسا سچّا اور صحیح ثابت ہوا۔اس کا رحم۔اس کا فضل اور انعام کس کس طرح دستگیری کرتا ہے۔مگر انسان کو بھی لازم ہے کہ خود بھی قدم اٹھاوے۔یہ بھی ایک سنّت اﷲ چلی آتی ہے۔کہ خلفاء پر مطاعن ہوتے ہیں۔آدم پر مطاعن کرنے والی خبیث روح کی ذرّیت بھی اب تک موجود ہے۔صحابہ کرامؓ پر مطاعن کرنے والے روافض اب بھی ہیں۔مگر اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو تَمْکِنَتْ دیتا ہے اور خوف کو امن سے بدل دیتا ہے۔(الحکم ۵؍مئی ۱۸۹۹ء صفحہ۵) چونکہ خلافت کا انتخاب عقلِ انسانی کا کام نہیں۔عقل نہیں تجویز کر سکتی کہ کس کے قوٰی قوی ہیں۔کس میں قوّتِ انتظامیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے۔اس لئے جنابِ الہٰی نے خود فیصلہ کر دیا ہے۔ خلیفہ بنانا اﷲ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔اب واقعاتِ صحیحہ سے دیکھ لو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلّم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے کہ نہیں۔یہ تو صحیح بات ہے کہ وہ خلیفہ ہوئے اور ضرور ہوئے۔شیعہ بھی مانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی ان کی بیعت آخر کر لی تھی۔پھر میری سمجھ میں تو یہ بات آ نہیں سکتی۔اور نہ اﷲ تعالیٰ کو قوی۔عزیز۔حکیم خدا ماننے والا کبھی وہم بھی کر سکتا ہے۔کہ اﷲ تعالیٰ کے ارادہ پر بندوں کا انتخاب غالب آ گیا تھا۔منشاء الہٰی نہ تھا۔اور حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہو گئے۔غرض یہ بالکل سچی بات ہے کہ خلفائے ربّانی کا انتخاب انسانی دانشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔اگر انسانی دانش ہی کا کام ہوتا ہے تو کوئی بتائے کہ وادیٔ غیر ذی زرع میں وہ کیونکر تجویز کر سکتی ہے؟ چاہیئے تویہ تھا کہ ایسی جگہ ہوتا جہاں جہاز پہنچ سکے۔دوسرے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تعلّقات قائم کرنے کے اسباب میسّر ہوتے۔مگر نہیں وادیٔ غیر ذی زرع ہی میں انتخاب فرمایا۔اس لئے کہ انسانی عقل اُن اسباب و وجوہات کو سمجھ ہی نہیں سکتی تھی۔جو اس انتخاب میں تھی۔اور ان نتائج کا اس کو علم ہی نہ تھا۔جو