حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 217
ابتداء سورۃ میں فرمایا۔کہ ہم نے بڑے ضروری احکام اس سورۃ میں دئے پھر فرمایا۔کہ زنا بُری چیز ہے(ب) کسی گھر میں بلا اجازت جانا منع ہے(ج) کسی پر عیب لگانا بہت بُرا ہے۔لیکن ساتھ بدی کو دور کر دینے کا حکم ہے۔نور سے تمیز پیدا ہوتی ہے اور تمام علوم خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں۔ظلمت میں جو چیز پڑی ہوتی ہے۔اس کی خوبی یا نقص کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔اندھیرے میں کیسے ہی گُل و گلزار ہوں۔کیسے ہی لطیف ریشم کے کپڑے ہوں۔مگر جب تک روشنی نہ آوے کچھ تمیز نہیں ہو سکتی۔: اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ یہ جہان میں جو کچھ عجائبات دیکھتے ہو۔اﷲ تعالیٰ اس کا نور ہے۔یعنی حضرت حق سبحانہٗ کے نور کا ظہور ہے۔اﷲ تعالیٰ کا نور جن پر پڑتا ہے۔ان میں بعض کو آفتاب بعض کو چاند بنا دیا۔: اﷲ تعالیٰ کے انوار میں سے ایک نور کی مثال یہ ہے۔: ایک طاق ہو۔اس میں چراغ رکھ دیں۔: اس کے اوپر ایک چمنی رکھ دیں۔چمنی کے رکھنے سے کاربن جلنے کے سبب دھواں جاتا رہتا ہے۔: پھر اس چمنی کے اوپر ایک اور گلوب (globe) رکھ دیا۔اس گلوب کے رکھنے سے اس کے خراب اجزاء جل کر بھڑک اُٹھتے ہیں۔پھر وہ چراغ ستارے کی طرح ہو جاتا ہے۔ جو ظلمت کو دور کرے۔دھواں نہ رہے۔یُوْقَدُ: اس چراغ میں کوئی تیل ہو۔پر وہ تیل برکت والا ہو۔جو نہ شرق میں ملے۔نہ غرب میں۔(دنیا کا نہ ہو) یعنی فضلِ الہٰی کا تیل اس میں ڈالیں۔: پھر اس تیلکو آگ لگانے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ وہ تو الہٰی فضل ہے۔وہ کوکب درّی بنے گا الہٰی فضل سے۔