حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 212 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 212

میں ہے ) یہ عمدہ باتیں ہیں اور اس لئے بتائی جاتی ہیں کہ ان پر عمل کرو۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۷۰،۲۷۱) : جب ظاہر میں مداخلت کی اجازت نہیں۔تو ان خلفاء کی اور ان کے متّبعین کی عیب چینی کیونکر جائز ہے۔(تشحیذالاذھان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۹) ۲۹۔   اگر وہاں کوئی نہ ہو تو وہاں بدوں اجازت مت جاؤ۔اگر تم کو کہا جائے کہ اس وقت تم کو اندر آنے کی اجازت نہیں۔واپس چلے جاؤ۔یہی پسندیدہ طرز ہے۔اور اﷲ تعالیٰ تمہارے اعمال پر واقف ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۱) :لوٹ جاؤ۔مگر آجکل کے مسلمان تو ناراض ہوتے ہیں اور طرح طرح کے شُبہے کرتے ہیں۔ایسی تعلیم بہت ہی نفع کی ہے۔جب تم کسی گھر میں بغیر اجازت جا نہ سکو گے تو کسی کے عیب پر اطلاع بھی نہ پاؤ گے اور اس طرح مطاعن۔عیب چینی سے بچو گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۲) ۳۰۔ ہاں ایسے غیر آباد گھروں میں جہاں کسی کی سکونت نہیں اور تمہارا وہاں اسباب رکھا ہے۔بدوں اطلاع و اجازت بھی جانا روا ہے۔اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تم کسی گھر میں بھلائی کو جاتے ہو یا شرارت کو۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۱) ۳۱۔