حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 208

صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں گئی تھیں۔اُونٹوں کو چلانے والے لوگ بڑے کج خُلق اور تُند خُو ہوتے ہیں۔حضرت عائشہؓ ایک مقام پر ذرا قافلہ سے باہر پاخانہ کی حاجت رفع کرنے کے لئے گئیں۔وہاں گلے کا ہار ٹوٹ گیا۔اس کے دانے چننے لگیں۔ذرا دیر ہو گئی۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے ساتھ کوئی گھنٹہ جرس نہ ہوتا۔اُونٹ والوں نے اونٹ کَس لئے اور قافلہ روانہ ہو گیا۔حضرت عائشہؓ واپس آئیں تو دیکھا کہ لوگ چلے گئے تھے۔آپؓ نے سوچا جس وقت نبی کریمؐ مقام پر پہنچیں گے اور مجھ کو نہ پائیں گے تو کسی کو لینے بھیجیں گے۔قافلوں میں ایک شخص قافلہ سے پیچھے رہتا ہے۔وہ آیا۔تو آپؓ اس کے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں اور بعض منافقین نے بے ہودہ بکواس شروع کی۔اﷲ تعالیٰ بریّت کر کے ارشاد فرماتا ہے کہ اگر فضلِ الہٰی سے معافی نہ ہوتی۔تو حضرت عائشہؓ پر اتہام ان سب کو تباہ کر دیتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۱۔۱۸۲) ۱۷۔  : حضرت عائشہ صدیقہؓ پر اِفْک باندھا گیاتھا۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔: خوب یاد رکھو کہ اس قسم کی باتوں کا ذکر بھی جائز نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۱) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھاکے متعلق بعض نے سوء ظنی کی۔اس پر اﷲ تعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہؓکی تطہیر فرمائی۔اور ان بدظنی کرنے والوں کیلئے حکم آیا یعنی جب عائشہ صدیقہؓ کی نسبت کوئی بات تم نے سُنی تھی۔تو کیوں تم نے سنتے ہی نہ کہا۔کہ یہ بات تو منہ سے نکالنے ہی کے قابل نہیں بلکہ تم یہ کہتے سُبْحَانَکَ پاک ذات تو اﷲ تعالیٰ ہی کی ہےیہ تو بہت ہی بڑا بہتان ہے۔(الحکم۱۰؍مئی۱۹۰۵ء صفحہ۵) ۱۸۔