حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 18
۔۔(نساء:۱۵۸،۱۵۹) (نساء:۱۶۰) بات دُور چلی گئی۔ان باغبانوں نے اپنے آخری نبی راست باز۔صلح کار کو اپنے زعم میں قتل کیا۔مار ڈالا۔بنی اسرائیل کے سارے نبی خدا کے پلوٹھے تھے۔اور مسیحؑ آخری پلوٹھے۔اب باغ اوروں کے سپرد ہوا۔باغ یروشلم تھا۔پہلے اس کے باغبان بنی اسرائیل میں سے رہے۔ان کی بے ایمانی سے اب وہ باغ بنی اسمٰعیل کے سپرد ہوا۔ماجوج در از گوش کہتے ہیں۔وہ آخری آ چکے۔اب محمدؐکون ہے۔عقل والو! سوچو انجیل میں لکھا ہے۔مالک باغ باغ اوروں کو سپرد کریگا۔آخر کہاں آ چکے۔معاملہ ختم نہیں۔کبھی پہلے بنی اسماعیل اس کے مالک ہوئے۔اب تیرہ سو برس سے مالک ہیں۔یہود اور عیسائیوں کے لئے عہدۂ باغبانی نہیں رہا۔باغ کا نام بھی بدل گیا۔یروشلم سے بیت المقدس بنا۔متی اس نئی قوم کے حق میں کہتا ہے۔وہ موسم پر پھل دیں گے۔متی ۲۱ باب ۴۸۔اور عرب میں حج کے ایّام کو موسم کہتے ہیں۔پھر لوقا ۲۰ باب ۱۶۔انہوں ( بنی اسرائیل ) نے یہ سُن کے کہا۔ایسا نہ ہو۔تب اُس نے ان کی طرف دیکھ کے کہا۔پھر وہ کیا ہے۔جو لکھا ہے کہ وہ پتھر جسے راجگیروں نے ردّ کیا۔وہی کونے کا سِرا ہوا۔ہر ایک جو اس پتھر پر گرے چُور ہو گا۔اور جس پر وہ گرے اسے پیس ڈالے گا اورمتی ۲۱ باب ۴۳۔اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں۔خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جاوے گی اور ایک قوم جو اس کے پھل لاوے دی جاوے گی۔یاد رہے۔بنی اسرائیل صرف روحانی بادشاہ نہ تھے بلکہ روحانی اور جسمانی۔عیسائی منصفو! یہ پتھر وہی ہے جس کو دانیال نے دیکھا اور وہ پھر پہاڑ بن گیا۔دانیال ۲ باب ۳۴۔جو اس پر گرا چُور ہوا۔اور جس پر وہ گرا۔اُسے پیس ڈالاجہاد پر اعتراض نہ کرنا۔قدیم زمانہ میں تصویری زبان کا بڑا رواج تھا۔اسی خیال پر عیسائیوں نے موسوی رسومات کو صرف نشان قرار دیا ہے۔مثلاً کہتے ہیں۔قربانی توریت مسیحؑ کی قربانی کا نمونہ تھی۔گو جانور خاموش جان دیتا ہے اور مسیحؑ نے ایلی ایلی پکارتے جان دی۔ظاہری طہارتیں اصلی طہارت کا نمونہ تھیں۔پوہلاہلانا۱؎۔مسیحؑ کا جی اٹھنا تھا ۲؎۔یو شع نے بارہ۱۲ پتھر اٹھوائے اور بقول عیسائیوں کے وہ بارہ حواریوں کا گویا نشان تھا