حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 205 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 205

کی بریّت خدا کی پاک کتاب سے ثابت ہو گئی۔اور اس طرح حضرت امّ المومنینؓ کو یہ فخر حاصل ہوا کہ قرآن شریف میں ان کا ذکرِ خیر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔اور جو لوگ منافق تھے اور ان کے دلوں میں کجی تھی اور کمزوری تھی وہ بھی ظاہر ہو گئے۔اور مومنوں کو آئندہ کے واسطے احتیاط مدّ نظر ہو گئی کہ ایسے معاملات میں جلدی سے مُنہ نہیں کھولنا چاہیئے بلکہ بہت احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔(بدر۱۳؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۱۳۔  کیوں ایسا نہ کیا گیا۔کہ جب تم نے سُنا اس بات کو تو مومن مردوں اور عورتوں کو لازم تھا کہ اپنے جی میں نیک ظن رکھتے اور کہتے کہ یہ تو ظاہر جھوٹی تہمت ہے۔اس آیت میں مومن مردوں اور عورتوں کو تمدّن اور اخوّت کا ایک بڑا ضروری اور امن قائم کرنے والا اصول سکھایا گیا ہے۔کہ کسی پر بدظنی کرنے میں جلدی نہ کریں بلکہ اپنے بھائیوں پر نیک ظن قائم رکھیں۔اور جب تک پوری تحقیقات نہ ہو لے کسی کے حق میں کوئی کلمۂ بد استعمال کرنے کی جرأت نہ کریں۔(بدر۱۳؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۴) خدا تعالیٰ نے اس سورت شریف میں فرمایا ہے کہ زانیہ کی سزا کے وقت نیک لوگ موجود ہوں اور اس پر رحم قریب بھی نہ آوے ( آیت:۳) وہاں حضرت عائشہ صدیقہ کا ذکر فرمایا ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بھی یہی کنواری بی بی ہیں۔ان کا درجہ میرے نزدیک حضرت خدیجہؓ سے کچھ بھی کم نہیں۔میں تم کو ایک نمونہ سناتا ہوں۔یہ ایک ایسی ذہین۔ذکی۔اور نبی کریمؐ کے چال چلن پر گہری نظر کرنے والی بی بی ہے۔کہ عقل حیران ہو جاتی ہے۔اس کا ایک ایک لفظ معرفت کا بھرا ہوا اور جامع ہے۔کسی صحابی نے اس بی بی سے پوچھا کہ آنحضرتؐ تہجّد کس طرح پڑھتے تھے۔فرمایا کیا تُو نے قرآن نہیں پڑھا۔ایک شخص نے اس بی بی سے آنحضرتؐ کی سوانح عمری دریافت کی۔فرمایا کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ یعنی قرآن اگر کوئی قول ہے۔تو نبی کریمؐ اس کا عامل ہے۔دیکھو ایک لفظ میں نقشہ کھینچ دیا ہے۔اس بی بی نے اُمّت پر بڑا احسان کیا ہے۔حضرت عمرؓ جیسے جلال والے انسان کا مقابلہ قرآن کریم سے ہی کرتی تھیں۔اس بی بی پر لوگوں نے اتہام لگایا تھا۔ان کے گلے میں ایک ہار تھا۔کس چیز کا۔سلیمانی منکے۔اور