حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 203
متعلق زنا کی بابت بولے۔لیکن اپنی بیویوں کے متعلق ایسے فعل کے دیکھنے اور ظاہر کرنے کے بارے میں مفصلہ ذیل احکام ہیں۔(بدر۱۳؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۷،۸۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں کو زنا کا عیب لگاتے ہیں۔اور سوائے اپنے اور کوئی گواہ ان کا نہیں ہے۔پس وہ ایک ہی آدمی چار دفعہ اﷲ کی قسم کھائے کہ میں سچ کہتا ہوں اور پانچویں دفعہ یُوں کہے کہ اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو۔چونکہ ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ اس قسم کے تعلّقات رکھتا ہے کہ باوجود کسی شہادت کے نہ ہونے کے جس سے وہ کھُلے طور پر صفائی کے جُرم ثابت کر سکے۔اسکی اپنی دِید اس امر کے واسطے کافی ہے۔کہ وہ اس عورت سے دِلی تنفّر رکھے۔اس واسطے ایسے موقع پر صرف اسی کی پُر زور شہادت پر اکتفا کیا۔لیکن چونکہ بعض مرد ایسے ہوتے ہیں کہ کسی اور ناراضگی کے باعث بھی ایسی قسم کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔اس واسطے بالمقابل اس کے وہ حکم ہے جو اگلی آیت میں آتا ہے۔(بدر۱۳؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۹،۱۰۔ اور اُس عورت سے عذاب کو دور کر دیتی ہے یہ بات کہ وہ چار دفعہ خدا کی قسم کھائے کہ یہ شخص جھوٹ بولتا ہے۔اور پانچویں دفعہ اس طرح قسم کھائے کہ اگر وہ مرد سچّا ہے تو مجھ پر خدا کا غضب