حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 186
: ۱۔وہ مکان جس میں روٹیاں پکاتے ہیں ۲۔زمین کے اوپر کا حصّہ ۳۔اونچی جگہ ۴۔جہاں سے چشمہ نکلے ۵۔پچھلی رات کے بعد صبح صادق کے وقت کو بھی کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹) : سحر کا وقت آ گیا۔زمین کے اوپر پانی آ گیا۔عذاب زور سے آ گیا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۸ ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) شریروں کی شرارت اور تکذیب حد سے گزر گئی تو چونکہ مامور من اﷲ بھی انسان ہی ہوتا ہے۔اعداء کی تکذیب اور نہ صرف تکذیب بلکہ مختلف قسم کی تکالیف خود اسے اور اس کے احباب کودی جاتی ہیں۔تو وہ بے اختیار ہو کر لَوْکَانَ الْوَبَائُ الْمُتَبَّر، کہہ اٹھتا ہے ایسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام نے بھی کہا۔اے میرے مولیٰ میری مدد کر۔میری ایسی تکذیب کی گئی ہے جس کو تُو عالم ہے۔جب معاملہ اس حد تک پہنچا تو خدا کی وحی یُوں ہوتی ہے ہماری وحی کے موافق ہماری نظر کے نیچے ایک کشتی تیار کرو۔اور اپنے ساتھ والوں کو بھی ساتھ لے لو۔تو ہم تم کواور تمہارے ساتھ والوں کو بچا لیں گے۔اور شریر مخالفوں کو غرق کر دیں گے۔چنانچہ حضرت نوحؑ نے ایک کشتی تیار کی اور اپنی جماعت کو لے کر اس میں سوار ہوئے۔خدا کا غضب پانی کی صورت میں نمودار ہوا۔وہی پانی حضرت نوحؑ کی کشتی کو اُٹھانے والا ٹھہرا۔اور اسی نے طوفان کی صورت اختیار کر کے مخالفوں کو تباہ کر دیا۔اور نتیجہ نے حضرت نوح علیہ السلام کی سچائی پر مہر کر دی۔غر ض یہ آسان پہچان ہے راست باز کی… جس طرح اﷲ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنی خاص حفاظتوں میں لاتا ہے۔ارضی بیماریوں اور دُکھوں سے بچاتا ہے۔آسمانی مشکلات سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور اسکی نصرت فرماتا ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو سچے طور سے پر اس کا ساتھ دیتے ہیں یا یوں کہو کہ ان کے رنگ میں رنگین ہو کر وہی بن جاتے ہیں۔سچّا تقویٰ اور حقیقی ایمان حاصل کرتے ہیں۔اور مامور کا ادھورا نمونہ بھی بن جاتے ہیں تو مقتداکی عظمت و ترقی اور نصرت کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ان کو بھی شریک کر لیتا ہے۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۷) ۳۰۔ : تعلیم سکھائی۔دُکھ سے نجات پا کر بھی انسان دُعا سے غافل نہ ہو