حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 184
حکم سے کشتی بنانے لگے تو وہ اس پر ہنسی کرتے تھے۔نوحؑ نے کیا کہا(ھود:۳۹) اگر تم ہنسی کرتے ہو تو ہم بھی ہنسی کرتے ہیں اور تمہیں انجام کا پتہ لگ جاوے گا کہ گندے مقابلہ کا کیا نتیجہ ہوا۔اسی طرح پر فرعون نے موسٰی علیہ السلام کی تبلیغ سُن کر کہا۔(المؤمنون:۴۸) اسکی قوم تو ہماری غلام رہی ہے (الزخرف:۵۳)یہ کمینہ ہے اور بولنے کی اس کو مقدرت نہیں اور ایسا کہا کہ اگر خدا کی طرف سے آیا ہے تو کیوں اس کو سونے کے کڑے اور خلعت اپنی سرکار سے نہیں ملا۔غرض یہ لوگ اسی قسم کے اعتراض کرتے جاتے ہیں۔اور جب اس کی انتھک کوششوں اور مساعی کو دیکھتے ہیں۔اور اپنے اعتراضوں کا اس کی ہمّت اور عزم پر کوئی اثر نہیں پاتے۔بلکہ قوم کا رجوع دیکھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں(المؤمنون:۲۶)میاں یہ وہی آدمی ہے۔انسان جس قسم کی دھت لگاتا ہے۔اسی قسم کی رؤیا بھی ان کو ہو جاتی ہے۔اس قسم کے خیالات کے اظہار سے وہ یہ کرنا چاہتے ہیںکہ تا خدا کی پاک اور سچی وحی کو مُلْتَبس کریں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جیسے رَمَّال۔احمق جفَّار۔گنڈے والے۔فال والے ایک سچّائی کے ساتھ جھوٹ ملاتے ہیں اسی طرح اس سچائی کا بھی خون کریں۔اس لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ دھت کی باتیں ہیں۔یہ وعدے اور یہ پیشگوئیاں اپنے ہی خیالات کا عکس ہیں۔دوستوں کیلئے بشارتیں اور اعداء کیلئے انذار۔یہ جنون کا رنگ رکھتے ہیں۔عیسائی اور آریہ اب تک اعترا ض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں اپنے مطلب کی وحی بنا لیتے ہیں۔اور دور کیوں جائیں اس وقت کے کم عقل مخالف بھی یہی کہتے ہیں۔مگر ایک عجیب بات میرے دل میں کھٹکتی ہے کہ وہ کافر جو نوح علیہ السلام کے مقابل میں تھے انہوں نے یہ کہا (المؤمنون:۲۶) چند روز اور انتظار کر لو۔اگر یہ جھوٹا اور کاذب مفتری ہے تو خود ہلاک ہو جاوے گا۔مگر ہمارے وقت کے ناعاقبت اندیش اندھوں اور نادانوں کو اتنی بھی خبر نہیں اور ان میں اتنی بھی صلاحیت اور صبر نہیں جو نوحؑ کے مخالفوں میں تھا۔وہ کہتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ کاذب کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔اس کی گردن پر جھوٹ سوار ہوتا ہے۔خود اس کا جھوٹ ہی اس کی ہلاکت کیلئے کافی ہوتا ہے مگر وہ لوگ کیسے کم عقل اور نادان ہیں جو اس سچائی سے دُور جا پڑے ہیں۔اور اس معیارپر صادق اور کاذب کی شناخت نہیں کر سکتے۔میرے سامنے بعض نادانوں نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ مفتری کیلئے مہلت مل جاتی ہے قطع نظر اس بات کے کہ اُن کے ایسے بیہودہ دعویٰ سے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوّت پر