حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 181
اور اونچی ہو مگر کبھی مستقیم نہیں ہو سکتی۔اور وہ آخر گرے گی اور نیچے کے نقطہ پر پہنچے گی۔سوء ظن کرنے والا نہ صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔بلکہ اس کا اثر اس کی اولاد پر، اعقاب پر ہوتا ہے اور وہ ان پر مصیبت کے پہاڑ گراتا ہے۔جن کے نیچے ہمیشہ راست بازوں کے مخالفوں کا سر کچلا گیا ہے۔میں بار بار کہتا ہوں کہ یہ سوء ظن خطرناک بَلا ہے۔جو اپنے غلط قیاس سے شروع ہوتا ہے۔پھر غلط نتائج نکال کر قوانینِ کُلّیَہ تجویز کرتا ہے۔اور اس پر غلط ثمرات مترتب ہوتے ہیں اور آخر قومِ نوح علیہ السلام کی طرح ہلاک ہو جاتا ہے۔پھر اس سوء ظن سے تیسرا خیال اور غلط نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ( المؤمنون:۲۵) اگر اس کو قرب الہٰی حاصل تھا اگر یہ واقعی خدا کی طرف سے آیا تھا تو پھر کیوں خدا نے ملائکہ کو نہ بھیج دیا۔جو مخلوق کے دلوں کو کھینچ کر اس کی طرف متوجّہ کر دیتے اور انکو بھی مکالمات الہٰیہ سے مشرف کر کے یقین دلادیتے۔اس وقت بھی بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں۔میں اس نتیجہ پر اُن خطوط کو پڑھ کو پہنچا ہوں جو کثرت سے میرے پاس آتے ہیں۔جن میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔کہ کیا وجہ ہے۔ہم نے بہت دعائیں کیں۔توجہ کی اور کوئی ایسا رؤیا یا مکالمہ نہیں ہؤا۔پس ہم کیونکر جانیں کہ فلاں شخص اپنے اس دعویٔ الہام میں سچّا ہے؟ یہ ایک خطرناک غلطی ہے جس میں دنیا کا ایک بڑا حصّہ ہمیشہ مبتلا رہا ہے۔حالانکہ انہوں نے کبھی بھی اپنے اعمال اور افعال پر نگاہ نہیں کی اور کبھی موازنہ نہیںکیا کہ قرب الہٰی کے کیا وسائل ہیںاور ان کے اختیار کرنے میں کہاں تک سچی محنت اور کوشش سے کام لیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر مشیّتِ حق میں یہ بات ہوتی تو وہ ملائکہ بھیجتا۔یہ مثال ان لوگوں کی طرح ہے جیسے کوئی چھوٹا سا زمیندار جس کے پاس دو چار گھماؤں اراضی ہو۔اُس کو نمبردار کہے کہ محاصل ادا کرو اور وہ کہہ دے کہ تُو میرے جیسا ہی ایک زمیندار ہے۔تجھ کو مجھ پر کیا فضیلت ہے۔صرف اپنی عظمت اور شیخی جتانے کو محاصل مانگتا ہے۔اور ہمارا روپیہ مارنا چاہتا ہے۔اگر کوئی بادشاہ ہوتا تو وہ خود آ کر لیتا۔وہ آپ کیوں نہیں آیا۔مگر ۱؎ (الفرقان:۲۲) کیا بڑا بول بولا۔نادان زمیندار بادشاہ کو طلب کرتا ہے۔اسے معلوم نہیں کہ بادشاہ تو رہا ایک طرف اگر ایک معمولی سا چپڑاسی بھی آ گیا تو وہ مار مار کر سر گنجا کردے گااور محاصل لے لے گا! اسی طرح ماموروں کے مخالف ایسے ہی اعتراص کرتے ہیں لیکن جب ملائکہ کا نزول ہو جاتا ہے۔تو پھر ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں جو انہیں یا تو چکنا چُور کر دیتے ہیں۔اور یا وہ ذلیل و خوار حالت میں رہ جاتے ہیں اور ۱؎ الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۸ تا ۱۰