حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 178
ہے دوسرے کے احکام و اوامر کی ویسی ہی اطاعت۔وہی تعمیل۔وہی تعظیم۔اسی طرز و نہج پر امیدوڈر ہرگز نہ ہو۔اور کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جاوے۔جب انسان ان دونوں مرحلوں کو طے کر لیتا ہے۔یا یُوں کہو کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی چھوڑتا اور اس کی اطاعت اور صرف اسی کی اطاعت کرتا ہے تو پھر اُس کا آخری مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان متقّی ہو جاتا ہے۔تمام دُکھوں سے محفوظ ہو کر سچی راحتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے۔پس نوحؑ نے آ کر اپنی قوم کے سامنے وہی تعلیم پیش کی جو تمام راست بازوں کی تعلیم کا خلاصہ اور انبیاء اور رُسل کی بعثت کی اصل غرض ہوتی ہے اور پھر انہیں کہا تم کیوں متقی نہیں بنتے۔یاد رکھو انسان کو جس قدر ضرورتیں پیش آ سکتی ہیں۔جس قدر خواہشیں اور امنگیں اسے کسی کی طرف کھینچ کر لے جا سکتی ہیں وہ سب تقویٰ سے حاصل ہوتی ہیں۔متقی اﷲ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے اور اﷲ سے بڑھ کر انسان کس دوست اور حبیب کی خواہش کر سکتا ہے؟ تقویٰ سے انسان خدا تعالیٰ کے تولّی کے نیچے آتا ہے۔متقّی کے ساتھ اﷲ ہوتا ہے۔متقّی کے دشمن ہلاک ہوتے ہیں۔متقّی کو اﷲ تعالیٰ اپنی جناب سے تعلیم دیتا ہے۔متقّی کو ہر تنگی سے نجات ملتی ہے۔اﷲ تعالیٰ متقّی کو ایسی راہوں اور جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا کہ جیسا کہ اس کی حمید و مجید کتاب میں موجود ہے۔اِنَّ اﷲَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ۱؎۔وَاﷲُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ ۲؎۔اِنَّ اﷲَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۳؎۔اِنْ تَتَّقُوا اﷲَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا ۴؎۔وَ اتَّقُوا اﷲَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اﷲُ ۵؎۔وَ َمْن یَّتَّقِ اﷲَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ ۶؎۔اب مجھے کوئی بتا دے کہ انسان اس کے سوا اور چاہتا کیا ہے؟ اس کی تمام خواہشیں۔تمام ضرورتیں۔تمام امنگیں اور ارادے ان سات ہی باتوں میں آ جاتی ہیں۔اور یہ سب متقّی کو ملتی ہیں۔پھر نوحؑ ہی کے الفاظ بلکہ خدا تعالیٰ ہی کے ارشاد کے موافق میں آج تمہیں کہتا ہوں تم کیوں متقّی نہیں بنتے؟ اور تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ نام ہے اعتقادتِ صحیحہ۔اقوالِ صادقہ۔اعمالِ صالحہ علومِ حقّہ اخلاقِ فاضلہ