حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 15 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 15

وے میرے بیٹے سے دبیں گے۔لیکن جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا آپس میں کہنے لگے ( بنی اسرائیل کی نبوّت کا آخری ) وارث یہی ہے۔آؤ اسے مار ڈالیں کہ میراث ہماری ہو جاوے اور اسے پکڑ کر اور انگورستان کے باہر لے جا کر ( اپنی طرف سے تو) قتل (ہی ) کیا۔جب انگورستان کا مالک آوے گا۔ان باغبانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔وے اسے بولے۔ان بدوں کو بُری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا۔جو اسے موسم پر میوہ پہنچاویں۔یسوع نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کو نے کا سرا ہوا(عرب کی طرف اشارہ ہے) یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت ( نبوّت و نصرتِ الہٰی ) تم ( بنی اسرائیل) سے لے لی جائے گی اور ایک قوم ( بنی اسمٰعیل اہل عرب) کو جو اس کیلئے میوے موسم پر ( اب بھی ایّامِ حج کو موسم کہتے ہیں) لاوے گی دی جاوے گی۔جو اس پتھر پر گرے گا چُور ہو جائے گا۔پر جس پر وہ گرے اُسے پیس ڈالے گا۔‘‘ مذکرہ بالا عبارت انجیل میں خطوطِ و حدانی کے اندر جو الفاظ ہیں وہ تشریحاً و تفسیراًہم نے لکھے ہیں اناجیل کے مفسّرین نے بھی اقرار کیا ہے کہ ان آیات میں بیٹے سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام اور پہلے باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔دیکھو تفسیر عمادالدین اور تفسیر پادری ہَو صاحب وغیرہ۔: مراد بنی اسرائیل و بنی اسماعیل۔ : حضرت اسحٰق کی اولاد کی طرف اشارہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷،۲۴ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۷۔۱۵۸ نیز دیکھیں تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۴،۴۶۵ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) یہ پیشگوئی اور بشارت بہ نسبت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہے۔انجیل میں یہ بشارت نہایت تفصیل سے موجود ہے۔وہ بڑا باغ اور بنی اسرائیل کا تاکستان یروشلم ہے۔بنی اسرائیل اپنے ناپاک گھمنڈ میں اپنے بھائی بنی اسمٰعیل کو ہمیشہ حقیر و ذلیل جانتے رہے اور اپنی باغبانی کے ( بقول مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَھٰذِہٖٓ اَبَدًا) لازوال ہونے کا یقین کرتے رہے۔حضرت مسیحؑ نے ان کو آگاہ کیا اور بتایا تمہاری باغبانی جاتی رہے گی۔اب نیا افسر اور نئے باغبان آنے والے ہیں۔اگر تم نے ان نئے باغبانوں پر حملہ کیا تو چُور ہو جاؤ گے۔اگر وہ تم پر گرے پِس جاؤ گے۔اس بشارت میں حضرت مسیحؑ کی تفصیل سنو متی ۲۱ باب آیت ۳۳۔مرقس ۱۲ باب آیت ۱۔لوقا ۲۰ باب آیت ۹۔پھر لوگوں سے یہ تمثیل کہنے لگا۔کسی نے انگور کا باغ لگا کے اسے باغبانوں کے سپرد کیا اور مدّت تک پردیس جا رہا۔