حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 173
بھی دیا کرتا تھا۔شاباش لے کر اُدھر جلا دیا کرتا تھا۔آٹھ آٹھ ورق کا سرنامہ میں نے پڑھا ہے اس سے مجھے یہ فائدہ پہنچا۔کہ مَیں نے اب سرناموں کو جڑھ سے ہی کاٹ دیا ہے۔۱؎ یعنی میرے سرنامے یہ ہیں۔عزیز۔عزیز مکرم۔مکرم جناب۔السلام علیکم۔جن سے مجھے محبت نہیں ہے۔اُ ن کو میں صرف جناب لکھ دیتا ہوں۔یعنی تم اُس طرف۔میں اِس طرف۔غرض ہم کو فضول باتوں کی ضرورت نہیں۔ہم کو پنج بنائِ اسلام کی ضرورت ہے۔اخلاق کی ضرورت ہے۔(کلام امیر صفحہ۲۔۳) ۵۔ زکوٰۃ کا لفظ بہت وسیع ہے۔ایکؔ نصاب پر۔دومؔ جو کچھ خدا نے دیا ہے اس سے خرچ کرے۔کسی دُکھیارے کی تکلیف اٹھا لینا۔خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا۔حتّٰی کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ پر ایمان بھی زکوٰۃ ہے۔کہ یہ بھی موجبِ تزکیہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹) ۹۔ : امانت اپنے ماتحت و رعایا کو بھی کہتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۸ ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۰۔ : نمازوں کی محافظت وقت کے لحاظ سے۔ارکان بتعدیل ادا کرنے کے لحاظ سے۔خشوع و خضوع و پابندی سے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹) ۱۳۔ : خلاصہ در خلاصہ۔نباتات۔حیوانات۔خون۔پھر نطفہ پھر جا کر انسان بنتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹)