حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 172
یک بادشاہ بیٹھ گیا۔چارپائی کے ساتھ لمبے لمے بانس باندھ دئے اور گرجیں (گدھیں) بھی باندھ دیں۔وہ اس کا کھٹولا ہی اڑا کر آسمان کی طرف لے گئیں۔اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر یہ خاص فضل کیا ہے۔میں تو ان لغو باتوں کے نزدیک بھی نہیں آ سکتا۔اب لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا خدا بھی جھوٹ بول سکتا ہے پہلے خدا کے بولنے کا تو فیصلہ کرو۔کہ آیا بولتا بھی ہے یا نہیں۔اب پوچھتے ہیںکہ اگر خدا بُروں کو دوزخ میں ڈالنے کا وعدہ کرتا ہے تو کیا نیکوں کو نہیں ڈال سکتا۔میں خدا کے فضل سے اس پر بحث کر سکتا ہوں۔میں نے قرآن کی غرض سمجھی ہوئی ہے۔مگرلوگوں نے قرآن کی اور ہی غرض سمجھی ہے۔بعض سمجھتے ہیں کہ قرآن میں صیغے عجیب عجیب ہیں۔وہ حل ہو جاویں۔ِ (النّور:۵۳) کا صیغہ کیا ہے۔کوئی کہتا ہے اس میں ترکیبیں مشکل ہیں وہ حل کی جاویں۔اگر اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کو دوزخ میں ٹھونسناہے اور بدکاروں کو جنّت میں بھیجنا ہے تو اس قرآن کا آنا تو خاک میں مل گیا۔اﷲ تعالیٰ کی شناخت میں بھی لغو سے بہت کام لیا گیا ہے بعض ؎ خود کوزہ و خود کوزہ گر وخود گِل کوزہ وغیرہ کہتے ہیں پھر عیسائی اس قاعدے پر چلے ہیں کہ خدا مجسّم ہو سکتا ہے جیسا کہ وہ ہؤا۔پھر ہندو کہتے ہیں۔کہ خدا ایک سَنْسَار بنا۔پھر کچھّو کُمّاں۔پھر ایک دفعہ سؤر بن گیا۔چنانچہ کہتے ہیں۔کچھ مچھ ورادتوں ۱؎ ژاسِنْگھ تُوں۔یعنی شیر بھی تُو ہی ہے۔میں اﷲ کو گواہ کرتا ہوں اور اپنے بڑھاپے کو حاضر کرتا ہوں۔میں ہر رات کو یہ خیال کرتا ہوں کہ شاید میں صبر کو ہوں گا یا نہیں۔میں تم کو کہتا ہوں کہ یہ باتیں بالکل بیہودہ ہیں۔نہ ہمارے دین کے کام کی ہیں۔نہ دنیا کے کام کی۔نہ صحت کے کام کی ! صحابہؓ۔ائمہؒ حدیث۔ائمہؒ فقہ۔ائمہؒ تصوّف چاروں قسم کے لوگوں نے قطعًایہ بحثیں نہیں کی ہیں۔جب مسلمان لوگ فاتح ہو گئے اور ہزاروں کتابیں دیکھیں تو وہ باتیں کتابوں میں لکھ ماریں۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی سوال میں اﷲ۔رسول۔فرشتوں۔جزا و سزا کے بارے میں۔اخلاق کے بارہ میں نفع پہنچے تو ان مسئلوں پر بحث کرو۔اگر نہ پہنچے تو ان پر تھُوک دو۔ہم نہیں جانتے کہ موسٰیؑ کا عصا کتنا لمبا تھا اور کس لکڑی کا تھا۔آدمؑ کے گرنے کی جگہ کہاں ہے۔اور نوحؑ کی کشتی کس لکڑی کی تھی۔وغیرہ۔میرا ایک استاد منشی قاسم علی رافضی تھا۔میں اس سے فارسی پڑھا کرتا تھا۔وہ مجھے کہتا۔آج بزم کا رقعہ لکھو۔آج رزم کا رقعہ لکھو۔آج بہاریہ رقعہ لکھو۔آج خزاں کا رقعہ لکھو۔مجھے حکم ہوا کہ آج یہ سب رقعے یاد کر کے ہمیں سنا دو۔میں اس کو فر فر کر کے سُنا