حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 171

لغو حرکات نہ کرے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹) : ۱۔تذلّل ۲۔اَلْقِیَامُ فِیْ مَا اَمَرَرَبُّہٗ ۳۔لَا یُجَاوِزْ بَصَرَہٗ عَنْ مُصَلَّاہُ ۴۔ہاتھ پاؤں کو روک رکھنا ۵۔ادھر ادھر نہ دیکھنا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۸ ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) : کُل باطل۔کُل معاصی لغو میں داخل ہیں۔تاش، گنجفہ۔چوسر سب ممنوع ہیں۔گپیں ہانکنا۔نکتہ چینیاں وغیرھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹) میں ایک بات کی طرف متوجّہ کرتا ہوں۔خوب سُنو۔چھوٹے ہو یا بڑے۔جوان یا بڈھے۔خواہ سبق لمبا ہی ہو جاوے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔،۔مظفّر و منصور وہی مسلمان ہوتا ہے جو لغو سے بچتا ہے۔یہ ایک معرفت کا نکتہ ہے۔جب تک یہ عادت ان میں نہ ہو گی کامیاب نہ ہوں گے۔مگر اب اسلام میں کیا کیا فضول بحثیں چلی ہیں۔اوّل حضرت آدم بہشت میں پیدا ہوئے یا زمین پر (۲)حوّا آدمؑ سے نکلی یا آدمؑ حوّا سے (۳) آدمؑ کا بدن کس شکل کا تھا (۴)کپڑے کیسے تھے (۵) وہ درخت کیسا تھا (۶) شیطان کیا چیز ہے (۷) آدم کو جب دھکّا دیا گیا تو وہ کہاں اُترا (۸) حضرت نوحؑ کی کشتی کس لکڑی کی تھی (۹) وہ جانور جو پتہ لگانے کے واسطے گیا تھا۔وہ کون تھا (۱۰) اس کشتی میں ہاتھی گھوڑے سب کچھ ڈالے گئے گویا سارا جہان ہی ہوا (۱۱) حضرت موسٰیؑ کی لاٹھی کس درخت کی تھی (۱۲) حصرت موسٰیؑ کا قد کتنا لمبا تھا۔کہتے ہیں کہ ستّر ہاتھ لاٹھی تھی ، اور ستّر ہاتھ حضرت موسٰیؑ کا قد تھا اور ستّر ہاتھ اُچھل کر عوج بن عنق کو مارا مگر اس کے گِٹّے ( ٹخنے) پر لگی۔گویا اس کاٹخنہ ۲۱۰ ہاتھ زمین سے اونچا تھا۔اور اب دریائے نیل پر اس کی ٹانگ کی نلی کا پُل بنا ہوا ہے اور جب نوحؑ نبی کی لہر آئی تو عوج مذکور کو گِٹّے گِٹّے آئی۔غرضیکہ بڑے لمبے لمبے قصّے بیان کئے گئے ہیں۔میں تو ایسے مسئلوں سے دنیا میں آگے ہی گھبرایا ہوا ہوں۔اب میں بڈھا ہوں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ اﷲ کی کتاب میں لغو سے کام نہ لو ! تفسیریں پڑھو۔جب ایسے قصّے آویں۔انہیں چھوڑ دو۔معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور نصارٰی اور مجوسیوں نے وہ قصّے ڈال دیئے ہیں۔قصّوں کی وہ بھر مار ہے کہ ہم اصل قرآن تو پڑھ ہی نہیں سکتے ہزار در ہزار ورق لکھ دئے ہیں۔نعوذ باﷲ۔ایک کہانی ایک آیت پر یہ لکھ دی گئی ہے کہ ایک چارپائی پر