حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 170
سُوْرَۃُ الْمُؤْمِنُوْنَِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ حج میں مَیں نے یہ سنایا تھا کہ حضرت رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کے مخالفوں اور موذیوں کو اطلاع دی گئی تھی کہ تم پر وہ مصیبت کی گھڑی آنیوالی ہے۔جسسے حاملہ حمل گرا دے۔دودھ پلانے والی اپنے بچے کو بھول جائے۔اسی سورۃ کے اخیر میں فرمایا ہے کہ نبی و مہاجرین کو مشکلات پیش آتے ہیں۔مگر وہ آخر میں فتح مند ہوتے ہیں۔اور فتح مندی کا طریق بتلایا کہ نمازیں قائم کرو۔زکوٰۃ دو۔کتاب اﷲ پر عمل کرو۔اب اس منذر سورۃ کے بعد مومنوں کو نصرت کی بشارت دیتے ہوئے فتح مندی کے کچھ شرائط مقرّر کئے اور کچھ طریقے بتائے ہیں۔ہر چیز اپنے کمال کو چھ مرتبہ طے کر کے پہنچتی ہے۔یہاں مومن کے روحانی کمالات کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے براہین احمدیہ حصّہ پنجم میں ان آیات کی خوب تفسیر فرمائی ہے! ۲ تا ۴۔ : ایک مقام پر فرمایا ہے۔ً ( حٰمٓ السجّدہ:۴۰) خَاشع کے معنی ہیں۔اپنے آپ کو کمال محتاج یقین کرنا اور یہ باور کرنا کہ میرے اپنے پاس کچھ بھی نہیں۔اسی لئے صوفیاء نے فرمایا ؎ہم دعا از تو اجابت ہم زِتو نماز میں پورا تذلّل اختیار کرے اور اس کے ظاہری نشان یہ ہیں کہ ادھر اُدھر نہ دیکھے