حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 160

۔جس قدر آپ کے ساتھ لوگ ہوں انکی تلواریں نیام میں ہوں۔تیر ترکش میں۔بھالے چمڑوں میں۔۲۔تین دن سے زیادہ نہ رہیں۔کوئی مسلمان مکّہ میں ہو تو آپ کے ساتھ نہ جا سکے گا۔اور اگر کوئی آپ سے آنا چاہے تو اسے روکو گے نہیں۔پھر میں نے یہ کہا تھا کہ اس سورۃ میں انذار کیا ہے۔سب قوموں کو جو عرب، مصر، عراق، شام میں تھیں۔اس رکوع میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جو عزت وجاہت لئے پھرتے ہو یہ سب خاک ہو جاوے گی۔: جو میرا ساتھ دیں گے وہ معزّز ہوں گے اور جو میرے برخلاف کوششیں کرتے ہیں۔وہ شکست یاب ہوں گے۔رسول اﷲ تو ایمان عملِ صالح۔اطاعتِ رسول اور امر بالمعروف چاہتے ہیں۔اور کفّار نبی کا انکار۔بدیوں میں انہماک فسق و فجور۔کفر و شرک چاہتے ہیں اور ہماری آیات کو عاجز کرنا۔پس یہ سب مخالف جہنم کے کندے بنیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۶) ۵۳۔   : مخالفانِ اسلام اس آیت کے غلط معنے کر کے طرح طرح کے اعتراضات پیش کرتے ہیں۔حالانکہ قصور خود ان کے فہم کا ہے۔اس سورۃ کے گزشتہ رکوع پر نظر ثانی کرو۔اُس میں کیا مضمون ہے۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ کس زور سے اﷲ تعالیٰ اپنی توحید و عظمت کو قائم کرتا ہے اور تحدّی سے پیشگوئی کرتا ہے کہ د شمن اس کے تباہ ہوں گے۔کیا ان چھ رکوعوں کے مضامین کے سامنے اس بیہودہ روایت کی کچھ ہستی ہے کہ نبی کریمؐ کی زبان پر اثنائِ وعظ یہ کلمہ بھی جاری ہوا۔تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَ اِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی جھوٹ بکتے ہیں جو ایسا کہتے ہیں۔اس طرح تو نبی کریمؐ کے کلام سے امان اُٹھ جاوے گا۔