حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 156 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 156

  : سوا کسی وجہ وجِیّہ کے۔اگر خدا ہر چیز کی حدبندی نہ کرتا۔: صابی قوم کے گرجے۔: یہودیوں کے گرجے۔: عیسائیوں کے گرجے یا ہندؤوں کے ٹھاکردوارے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ۱۷۶) حکم ہوا ان کو جن سے لوگ لڑتے ہیں اس واسطے کہ ان پر ظلم ہوا۔اور اﷲ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے وہ جن کو نکالا ان کے گھروں سے اور کچھ دعویٰ نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اﷲ ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۹۹ و صفحہ۱۰۲) اور اگر نہ ہٹایا کرتااﷲ لوگوں کو ایک کو ایک سے تو ڈھائے جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اﷲ کا بہت۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۰۲) ایک اور احسان اسلام نے کیا جو میرے خیال میں دنیا کے کسی ریفارمر اور مصلح کو نہیں سُوجھا وہ یہ ہے:  … ۔ہم بعض اوقات خود حفاظتی کا حکم دیتے ہیں اور اس سے غرض یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو گرجے تباہ ہو جاویں۔دھرم شالے اور یہودیوں کے معبد تباہ ہو جاویں۔اور ہم نہیں چاہتے کہ وہ تباہ ہوں۔کیا یہ سنہری اصول دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں پایا جاتا ہے؟اگر یہ فقرہ انجیل میں ہوتا تو مسیحی لوگوں نے جو سلوک اپنے مخالف لوگوں کے معبدوںسے کیا ہے وہ نہ ہوتا۔متھالوجی کو پڑھو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ مسیحی لوگوں سے پہلے کس قدر معبد تھے جن کا آج نام و نشان بھی نہیں۔مثلاً پٹراموں کا بڑاعظیم الشان مندر تھا۔جہاں سکندرِ اعظم پیادہ حج کرنے آیا تھا۔مگر آج کوئی