حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 157
بتا نہیں سکتا کہ وہ مندر کہاں تھا۔اس قدر تنگ دلی۔ضِد اور تعصّب اور ہَٹ اسلام پسند نہیں کرتا۔کہ معبد گرائے جاویں۔مسلمانوں نے جہاں آٹھ سو برس۔ہزار اور بارہ سو برس بھی راج کیا ہے اس ملک کے معابد اب تک موجود ہیں اور ان کو تباہ نہیں کیا۔مگر بڑی روشنی والی قوم سے پوچھیں کہ پڑاموں کا مندر کہاں تھا؟ تو نہیں بتا سکتے۔نشان تک مٹا دیئے بلکہ یروشلم جیسی جگہ جو بائیبل میں بھی مقدّس سمجھی گئی تھی۔پاش پاش کر دی گئی۔اور وہاں سؤر کی قربانی کی گئی۔شاید کوئی کہہ دے کہ سؤر ناپاک نہیں۔مگر بائبل پڑھیں گے تو اس کے خلاف پائیں گے۔اس کے بالمقابل دیکھو کہ سپین اور فلسطین میں کیسی پُرشوکت اسلامی سلطنت تھی۔مگر دیکھ لو پرانے سے پرانے معبدوں کو چھیڑا نہیں۔بلکہ فاروقِ اعظم کے زمانہ میں جب وہ یروشلم تشریف لے گئے تو وہاں کے بشپ نے کہا کہ یہاں نماز پڑھ لو۔انہوں نے فرمایا کہ تم بڑے ناعاقبت اندیش ہو۔اگر میں یہاں نماز پڑھ لوں تو مسلمان اس گرجے کو مسجد بنا لیں گے۔ہماری سرکار صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کے حضور نجرانؔ کے عیسائی آئے۔اور اتوار کا دن تھا۔آپؐ نے فرمایا۔میری ہی مسجد میں گرجا کر لو۔وہ لوگ رومن کیتھولک ہوں گے۔مگر کس حوصلہ کے ساتھ ان کو اجازت دی۔اس سے پایا جاتاہے کہ جہاں وہ احسانِ عام کرتے تھے۔وہاں ابقائے مذہب بھی ان کا مذہب تھا۔خواہ ہندوستان میں پہلی صدی ہجری میں عرب آئے۔اور کم از کم ساڑھے گیارہ سو سال تک اسلامی حکومت یہاں رہی… اس عرصہ دراز میں ہندوستان کے معابد پر اسلامی سلطنت نے کیا اثر کیا؟ ان کی موجودگی خود ظاہر کرتی ہے! (بدر ۱۸؍جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ۴۔۵) ۴۲۔ (آیت) پر تدبّر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نصرتِ الہٰی ان لوگوں کیلئے ہے جو اﷲ کے کاموں میں نصرت کریں۔اس کے دین کی حمایت کریں۔۱۔نمازیں سنوار کر پڑھیں چنانچہ صحابہؓ میں کسی عمداً تارک الصلوٰۃ کی نظیر نہیں ملتی۔