حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 153
خوشی کیلئے قربان کرنا پڑتا ہے۔گھی آٹا گوشت وغیرہ قیمتی اشیاء اس پیارے کے سامنے کوئی ہستی نہیں رکھتیں۔۳۔اس سے زیادہ عزیز ہو تو مرغے مرغیاں حتّٰی کہ بھیڑیں اور بکرے قربان کئے جاتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر گائے اور اونٹ تک بھی عزیز مہمان کیلئے قربان کر دئے جاتے ہیں۔۴۔میں نے اپنی طبّ میں دیکھا ہے کہ وہ قومیں جو جائز نہیں سمجھتیں کہ کوئی جاندار قتل ہو وہ بھی اپنے زخموں کے کئی سینکڑوں کیڑوں کو مار کر اپنی جان پر قربان کر دیتی ہیں۔۵۔اس سے اوپر چلیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ادنیٰ لوگوں کو اعلیٰ کیلئے قربان کیا جاتا ہے۔مثلاً چوہڑے ہیں آج عید کا دن ہے مگر ان کے سپرد پھر بھی وہی کام ہے بلکہ صفائی کی زیادہ تاکید ہے گویا ادنیٰ کی خوشی اعلیٰ کی خوشی پر قربان ہوئی۔۶۔ہندو گئورِکھشا بڑے جوش سے کرتے ہیں ( لداخ کے ملک میں تو دودھ تک نہیں پیتے کیونکہ یہ بچھڑوں کا حق ہے اور یہاں کے ہندو تو دھوکہ دے کر دودھ لیتے ہیں) مگر پھر بھی اس سے اور اس کی اولاد سے سخت کام لیتے ہیں۔یہاں تک کہ اپنے کاموں کیلئے انہیں مار مار کر درست کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہے۔۷۔ادنیٰ سپاہی اپنے افسر کیلئے اور وہ افسر اعلیٰ افسر کیلئے اور اعلیٰ افسر بادشاہ کے بدلے میں قربان ہوتا ہے پس خدا تعالیٰ نے اس فطرتی مسئلہ کو برقرار رکھا اور اس قربانی میں تعلیم دی کہ ادنیٰ اعلیٰ کیلئے قربان کیا جاوے۔۸۔محبت میں انسان بے اختیار ہوتا ہے۔مگر اس میں بھی قربانیوں کا ایک سلسلہ ہے چنانچہ مُحِبّ بھی بتدریج محبوبوں کے مراتب رکھ کر ایک کو دوسرے پر قربان کرتا رہتا ہے۔اپنا پیسہ یا جان محبوب ہے مگر دوسرے محبوب پر اسے قربان کر دیتے ہیں عُذر نہیں۔انسان کو مال کی محبّت ہے۔بی بی کی محبّت ہے۔بچوں کی محبّت ہے۔یارو آشنا کی۔امن و چین کی محبّت ہے۔اﷲ کی کتابوں۔اﷲ کے رسولوں سے محبّت ہے۔سچّے علوم سے بھی محبّت ہے ان تمام محبّتوں کے مراتب ہیں اور ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔(بدر ۳۰؍دسمبر۱۹۰۹ء صفحہ۱۔۲) : جیسے یہ تمہارے فرماں بردار۔ویسے ہی تم اﷲ کے فرماں بردار بنو۔قربانی میں یہی سمجھایا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۸ ماہِ ستمبر ۱۹۱۳)