حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 152 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 152

بھی خدا کی فرماں برداری میں اپنے خون تک سے دریغ نہ کرو۔انسان جب ایسا کرے تو وہ کوئی نقصان نہیں اٹھاتا۔دیکھو ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کا نام دنیا سے نہیں اُٹھا۔ان کی عزّت و اکرام میں فرق نہیں آیا۔پس تمہاری سچی قربانی کا نتیجہ بھی بَد نہیں نکلے گا۔۔تقویٰ خدا کو لے لیتا ہے۔جب خدا مل گیا تو پھر سب کچھ اسی کا ہو گیا۔معجزوں کی حقیقت بھی یہی ہے۔جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو اس کو تمام ذرّاتِ عالم پر ایک تصرّف ملتا ہے۔اس کی صحبت میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور یہ ایک فطرتی بات ہے کہ ایک انسان کے اخلاق کا اثر دوسرے کے اخلاق پر پڑتا ہے۔بعض طبائع ایسی بھی ہیں۔جو نیکوں کی صُحبت میں نیک اور بدوں کی صحبت میں بد ہو جاتی ہیں۔(بدر ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۸،۹) : قربانی کے سلسلہ میں خدا گوشت کا بھُوکا نہیں۔بلکہ خدا کو پانے کیلئے تقویٰ ہے۔وہ ہمیں اپنے تک پہنچنے کا ایک طریق سکھاتا کہ ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کر دو۔(بدر ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۸) قربانی جو عیدالاضحٰی کے دن کی جاتی ہے۔اس میں بھی ایک پاک تعلیم ہے۔اگر اس میں مدّنظر وہی امر رہے جو جنابِ الہٰی نے قرآن شریف میں فرمایا۔۔قربانی کیا ہے؟ ایک تصویری زبان میں تعلیم ہے جسے جاہل عالم پڑھ سکتے ہیں ! خدا کسی کے خون اور گوشت کا بھُوکا نہیں۔وہ ھُوَ(الانعام:۱۵)ہے ایسا پاک اور عظیم الشان بادشاہ نہ تو کھانوں کا محتاج ہے نہ گوشت کے چڑھاوے اور لہُو کا! بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور اسی طرح قربان ہوجاؤاور ادنیٰ اعلیٰ کیلئے قربان ہوتا ہے۔کل دنیا میں قربانی کا رواج ہے۔اور قوموں کی تاریخ پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادنیٰ چیز اعلیٰ کے بدلے میں قربان کی جاتی ہے۔یہ سلسلہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ہم بچے تھے تو یہ بات سُنی تھی کہ کسی کو سانپ زہریلا کاٹے تو وہ انگلی کاٹ دی جاوے تاکہ کل جسم زہریلے اثر سے محفوظ رہے۔گویا انگلی کی قربانی تمام جسم کے بچاؤ کیلئے کی گئی۔۲۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی دوست آ جاوے تو جو کچھ ہمارے پاس ہو اس کی