حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 151
سنو! اسی دستِ قدرت نے جو متّقیوں کو اعزاز دینے والا ہاتھ ہے۔اس سے پہلے پچیس برس پر نگاہ کرو۔تم سمجھ سکتے ہو کہ کون ایسی سخت سردیوں میں اس گاؤںکی طرف سفر کرنے کیلئے تیار تھا۔پس تم میں سے ہر فردِ بشر اس کی قدرت نمائی کا ایک نمونہ ہے۔ایک ثبوت ہے کہ وہ متّقی کے لئے وہ کچھ کرتا ہے جو کسی کے سان و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔یہ باتیں ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتیں یہ قربانیوں پر موقوف ہیں۔انسان عجیب عجیب خوابیں اور کشوف دیکھ لیتا ہے۔الہام بھی ہو جاتے ہیں۔مگر یہ نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔جس آدمی کی یہ حالت ہو۔وہ خوب غورکر کے دیکھے کہ اس کی عملی زندگی کس قسم کی تھی۔آیا وہ ان انعامات کے قابل ہے یا نہیں۔یہ مبارک وجود نمونہ موجود ہے۔اسے جو کچھ ملا۔ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جو اس نے خداوند کے حضور گزاریں۔جو شخص قربانی نہیں کرتا جیسی ابراہیمؑ نے کی اور جو شخص اپنی خواہشوں کو خدا کی رضا کیلئے نہیں چھوڑتا تو خدا بھی اس کیلئے پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقابلہ میں جیسے دشمن موجود تھے۔مگر وہ خدا جس نے (المؤمن:۵۲) فرمایا۔اس نے سب پر فتح دی۔صلح حدیبیہ میں ایک شخص نے آ کر کہا تم اپنے بھائیوں کا جتھا نہ چھوڑو ایک ہی حملہ میں یہ تمہارے پاس بیٹھنے والے بھاگ جائیں گے۔اس پر صحابہؓ سے ایک خطرناک آواز سُنی۔اور وہ ہکّا بکّا رہ گیا۔یہ حضرت نبی کریمؐ کے اﷲ کے حضور بار بارجان قربان کرنے کا نتیجہ تھا کہ ایسے جاں نثار مرید ملے اور وہ جو باپ بنتے تھے۔جو تجربہ کار تھے۔ہر طرح کی تدبیریں جانتے تھے۔ان سب کے منصوبے غلط ہو گئے۔اور وہ خدا کے حضور قربانی کرنے والا متّقی نہ صرف خود کامیاب ہوا بلکہ اپنے خلفاء راشدین کیلئے بھی وعدہ لے لیا… متّقیوں کی جماعت میں شامل ہونا پھر ہر سال میں دیکھنا کہ جیسے ہم ایک جانور پر جو ہمارے مِلک اور قبضہ میں ہے جُزوی مالکیّت کے دعوٰی سے چھُری چلاتے ہیں۔اسی طرح ہمیں بھی اپنے مولیٰ کے حضور جو ہمارا سچا خالق ہے اور ہم پر پوری اور حقیقی مالکیّت رکھتا ہے۔اپنی تمام نفسانی خواہشوں کو اس کے فرمانوں کے نیچے ذبح کر دینا چاہیئے۔قربانی کرنے سے یہ مراد نہیں کہ اس کا گوشت اﷲ تعالیٰ کو پہنچتا ہے بلکہ اس سے ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام کی فرماں برداری کا نظارہ مقصود ہے تا تم بھی قربانی کے وقت اس بات کو مدّ نظر رکھو کہ تمہیں بھی اپنی تمام ضرورتوں اعزازوں۔ناموریوں اور خواہشوں کو خدا کی فرماں برداری کے نیچے قربان کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔جس طرح ان جانوروں کا خون گراتے ہو۔ایسا ہی تم