حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 149 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 149

قربانی ایک اصل الاصول ہے تمام ترقیات کا۔کوئی مذہب۔کوئی سلطنت۔کوئی تمدّن قربانیوں سے خالی نہیں۔گند میں جو اجرام پیدا ہوتے ہیں وہ شیر۔چیتے۔بھیڑیے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ان کے زہر کے تریاقوں میں سے دھوپ۔روشنی۔ہوا ہے۔بڑے اہتمام سے پاخانوں اور ایسے گندے مقامات کی صفائی کروائی جاتی ہے۔مگر یہی گند کھاد بن کر ایسی خوشنما عمدہ نباتات پیدا کرتا ہے کہ جس کے اکثر حصّہ پر انسان کی حیات کا دار و مدار ہے۔گویا یہ اجرام قربان کئے جاتے ہیں انسان کیلئے۔پھر دیکھا جاوے تو انسان کی زندگی کیلئے کس قدر نباتات قربان کئے جاتے ہیں۔وہیل مچھلی کیلئے کس قدر مچھلیاں قربان کی جاتی ہیں ادنیٰ آدمی بڑے آدمیوں کیلئے اپنا آرام۔اپنی صحت اپنا وقت اور جسم خرچ کرتے ہیں۔بلکہ اس سے بڑھ کر فوجوں کا نظارہ ہے کہ سپاہی سے لے کر افسر۔کمانڈر انچیف تک درجہ بدرجہ بادشاہ کیلئے جان تک قربان کرتے ہیں۔غرض یہ سلسلہ بڑا لمبا ہے۔اور ہر قوم میں قربانی موجود ہے۔اسی لئے فرمایا ۔مسلمانوں کے لئے مابہ الامتیاز فرمایا۔کہ وہ قربانی کے موقع پر اﷲ کو یاد کر لیا کریںاور اس بات پر غور کریں کہ ادنیٰ اعلیٰ کیلئے کس طرح پر قربان کیا جاتا ہے۔اور کیونکر ایک جانور اپنا آپ اپنے سے اعلیٰ انسان کے آگے چپ چاپ رکھ دیتاہے۔پس اسی طرح ہم کو اپنی جانیں آستانۂ الوہیت پر قربان کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۵) ۳۶۔  : نماز سے بڑھ کر کوئی وظیفہ نہیں۔تسبیح۔تکبیر۔تہلیل۔تمام لوگوں کیلئے دُعا اور تبتل الی اﷲ۔اﷲ کی جانب سے پناہ۔درُود سب کچھ اس میں موجود ہے بلکہ اس کی ہیئت بھی جامع ہے۔تمام تعظیمات کی اور ذکر جامع ہے تمام اذکار کا۔اور اس میں تعظیم لامراﷲ ہے۔: یہ اسلام کا دوسرا رُکن ہے۔شفقت علیٰ خلق اﷲ پس جو اﷲ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کچھ دو۔مال۔طاقت۔علم۔ہنر  میں شامل ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۵)