حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 145
یہ سورۃ فتوحات کیلئے بیان فرمائی۔اس میں فتح مکّہ، مدینہ۔فتح عراق کی طرف اشارہ ہے۔عرب ایک خشن ۱؎ پوش قوم تھی۔اونٹوں۔بکریوں۔گوسپندوں کے بالوںکے کپڑے پہنتے۔نہ ریشم نہ پشمینہ۔: اﷲ تعالیٰ رسول کے ذریعہ بشارت ۱؎ خَشِن:۔کُھردرا۔سخت (مرتب) دیتا ہے کہ تم عراق۔عرب ایسے ممالک کے فاتح ہو گے۔اور بجائے خشن پوشی کے ریشم دیا جاوے گا۔: زیور دئے جائیں گے۔جنگ میں عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔یہ سب چیزیں جن کے پہننے کی تھیں۔انہیں کو پہنائی جائیں۔مگر انعام میں اکثر چیزیں اب بھی مردوں کو ملتی ہیں۔یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مرد پہن لیں۔سراقہ بن جعشم ایک شخص تھا۔اس کو رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ تجھے کسریٰ کے کڑے دئے جاویں گے۔اس نے ہاتھ ننگا کر کے کہا کہ ان ہاتھوں میں کڑے؟ فرمایا۔میں تو دیکھ رہا ہوں چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں اسے پہنائے گئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۴) ۲۵۔ : زبان کی شائستگی عرب کو بالخصوص بخشی گئی تھی۔عرب اپنے مرکز کے لحاظ سے کبھی مفتوح نہیں ہوئے۔یونانی باؤگولہ بھی پنجاب تک پہنچا مگر عرب پر وہ بھی تسلّط نہ کر سکا۔روما کی سلطنت بھی عظیم تھی اور فراعنہ مصر کی بھی۔لیکن سب کی دست بُرد سے محفوظ رہے اور خود بھی فاتح نہ ہوئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۴) ۲۷۔