حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 134
کہا گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۳) : دور دور کے لوگ۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۶۷ستمبر ۱۹۱۳ء) : سلیمان کے قبضے میں خلیج فارس تھی۔تم نے سنا ہو گا کہ وہاں موتی نکلتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۲) ۸۸۔ : جو کسی غضب میں آکر چل دئے۔لَنْ: ہم اس پر کسی قسم کی تنگی نہیں کریں گے۔یہ معنے نہیں۔کہ قادر نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۳) حضرت یونسؑ کی دُعا بھی اپنے اندر بہت سے اسرار رکھتی ہے۔وہ یہ ہے لَآ ۔پہلے لَآ سے مسئول کی تعریف کی ہے۔اور اسے مبداء تمام فیوضات کا اور اپنی ذات میں کامل اور صمد قبول کیا اور سے اس پر بہت زور دیا (الانعام:۱۸) ’’ اگر تجھے اﷲ کسی تکلیف میں ڈالے تو اس کا دور کرنے والا بھی اس کے سوا کوئی نہیں‘‘ کے ماتحت دُکھ درد دور کرنے والا اﷲ ہی کو مانا اور اسے تمام نقصوں سے منزّہ اور تمام عیبوں سے مبرّا جانا۔دوسری طرف (الشورٰی:۳۱)( جو تمہیں مصیبت پہنچے تو وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں سے ہے) کے موافق اس مصیبت کو اپنی کسی کمزوری کا نتیجہ قرار دیا۔پھر سُبْحَانَکَ سے تمسّک کر کے اپنی مصیبت میں پڑنے اور اپنی کمزوری کا اقرار کیا۔ گویا استغفار کیا۔لَآتوحید ہے۔اور توحید فاتحِ ابوابِ خیر ہے اور استغفار مُغْلِقُ اَبْوَابِ الشَّرِّ ہے۔اور اس دعا میں سب کچھ ہے اور اس پر صادق آتا ہے۔(الانبیاء:۹۱)(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۱ صفحہ۳۷)