حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 131

سَلام ہوتی ہے کہ نہیں۔یاد رکھو۔وہ برد و سلام ہو گی اور ضرور ہو گی۔مگر تم نادانی سے کہتے ہو کہ وہ خود آگ میں جاویں۔کیا یہ اتباعِ انبیاء و رسل ہے۔دیکھو قرآن میں ہے حَرِّقُوْہُ سوتم بھی حَرِّقُوْہ کاحکم اپنے ذُرِّیاتْ اور سواروں اور پیادوں کو کرو اور بس پھر دیکھو۔ابراہیم کی طرح آگ برد و سلام ہوتی ہے کہ نہیں۔ہاں بے ریب لیٹی مر بشپ بادشاہ انگلینڈ ایڈورڈ ششم کا درباری تھا۔۱۵؍اکتوبر ۱۵۵۵ء کو ملکہ مَیری کے عہدِ سلطنت میں پراٹسٹنٹ مذہب پر قائم رہنے اور وعظ کرنے کے سبب آگ میں جلایا گیا۔رڈلے بشپ پراٹسٹنٹ مذہب پر قائم رہنے اور وعظ کرنے کے سبب لیٹی مر کے ساتھ آگ میں جلایا گیا۔کرینمرآرچ بشپ پراٹسٹنٹ ہونے کی وجہ سے قید کیا گیا تھا۔اس نے توبہ کی مگر وہ خفیہ تھی۔باہر آ کر پھر پراٹسٹنٹ ہونے کا اقرار کیا اور یہ بھی اقرار کیا کہ موت کے ڈر سے میں نے اپنا مذہب چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا۔۱۵۵۶ء میں آگ میں جلایا گیا۔مگر یہ تو بتاؤ یہ ثالوثی۔مثلث خدا کو ماننے والے تین میں ایک۔ایک میں تین کے معتقد تمام الہٰی شریعت کو جو توریت میں تھیں لعنت کہہ کر اس پر پانی پھیرنے والے کفارہ مسیح پر اعتقاد کر کے بدوں اعمال بہشت کے وارث بننے والے ابرہیمؑ کی طرح کیوں بچائے جاتے؟ کیا خدا تعالیٰ ایسے ناپاک مشرکوں کو پاک موحّدوں کی جگہ پر اتارا کرتا ہے!… یہ سب لوگ ابراہیمؑ کے ایمان کے بالکل مخالف اور ضد ہیں۔جہاں تک تاریخ پتہ دے سکتی ہے۔اﷲ تعالیٰ کے مرسل و مامور اپنے اعداء کے سامنے ناکام ہو کر نہیں مرے اور نہ ہلاک ہوتے اور نہ مارے جاتے ہیں۔مامورین کے ساتھ جدال و قتال ہوتا ہے جس کا ذکر (اٰل عمران:۱۸۴) اور(البقرۃ:۹۲)میں ہے۔مگر یہ مقاتلہ و مقابلہ کرنے والے ناکام و نامراد مرتے ہیں۔اور مامور لوگ اﷲ کے فضل سے مظفر و منصور اور کامیاب ہو کر دنیا سے جاتے ہیں۔کیا تم نے نہیں سُنا(المائدہ:۴)کی آواز کس نے سُنی۔کیا اس بد انجام نے جو ویدوں کا ترجمہ بھی کامل نہ کر سکا۔اور جو کیا۔اس میں بھی پنڈت لوگوں کا تصرف و دخل شامل ہو گیا۔جس کے باعث وہ ترجمہ بے اعتبار ہے اور تم کو آگاہی نہیں۔۔(النصر:۲،۳)کی وحی کس کو ہوئی۔حزب اﷲ ہمیشہ غالب ہوتا ہے اور حزب الشیطان ہمیشہ خائب و خاسر مرتا ہے۔یہی بات تو ہے جس پر ہمارا امام اور ہم خوشیاں مناتے ہیں۔لیکھرام کو آگ لگی۔اور جل کر کباب ہو گیا۔اور اسکا مخالف اب تک عیش و آرام میں ہے۔اس کے لئے اس کے گھر میں باغ ہے اور چشمے جاری ہیں ؎