حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 128
بھی نہ جلایا‘‘ کیا تم اب اپنی کسی نیکی پراگنی کو اٹھا سکتے ہو یا اس شلوک کو غلط قرار دیتے ہو۔یا اس کی کوئی تاویل کرتے ہو یا یہ قول منو کا وید کے کسی شلوک کے خلاف سمجھ کر ردّ کرتے ہو۔اصل بات قرآن کریم میں اس قدر ہے۔۔ ۔ ۔ (الانبیاء:۶۹ تا۷۲) (العنکبوت:۲۵) ۔ ( الصّٰفٰت:۹۸،۹۹) انہوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر کچھ کرنا ہے۔ہم نے کہا اے آگ تُو ابراہیمؑ پر سرد اور سلامتی ہو جا۔انہوں نے ابراہیمؑ سے جنگ کرنی اور خفیہ تدابیر سے انہیں ایذا دینی چاہی۔مگر ہم نے انہیں زیاں کار کیا اور ہم نے ابراہیمؑ اور لُوطؑ کو مبارک زمین میں پہنچایا ( اور دوسری جگہ ہے )اس کی قوم کا جواب یہی تھا کہ اسے مار ڈالو۔یا جلا دو۔سو خدا نے اُسے آگ سے بچا لیا۔( اور تیسری جگہ ہے) انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کیلئے ایک مکان بناؤ اور اسے آگ میں ڈالو۔انہوں نے ابراہیمؑ کی نسبت ایذارسانی کا منصوبہ کیا۔سو ہم نے انہیں اس منصوبہ میں پست اور ذلیل کیا۔ان آیتوں سے کس قدر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو تم نے سمجھاہے۔بالکل لغو اور غلط ہے اس قصّہ میں یہ چند کلمات طیبّات ہیں۔جو مقامِ غور اور توجّہ کے قابل ہیں۔پہلا کلمہ ہے۔ دوسرا۔۔تیسرا۔ ۔چوتھا۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ ہر ایک گزشتہ نبی کا قصّہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے پیرؤوں کی صداقت اور حَقِیَّت کے ثبوت کیلئے ہوتا ہے۔اس لئے ہمیں اور ہر ایک مسلمان کو ضرور ہوا کہ حضرت نبی کریمؐ اور مولانا رؤوف رحیم کے ماجرے اس بارہ میں دیکھیں۔اس لحاظ سے