حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 127 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 127

: اپنے بڑے بُت کی طرف توجہ کریں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۲) ۶۴۔  : کسی کرنے والے نے کچھ کیا ہے۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ یہ کام کس نے کیا۔مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔تمہارا بڑا معبود موجود ہے۔اس سے پوچھ لو۔گویا ان کی غلطی کی طرف اس پیرائے میں توجّہ دلائی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۲) ۶۹ تا۷۲۔  : حضرت ابراہیمؑ جس شہر میں پکڑے گئے تھے۔اس کا نام اُورؔ تھا۔پشتو میں اب تک اُور کو آگ کہتے ہیں۔اس شہر میں آتشکدہ تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۲) اس سوال کے جواب میں کہ ابراہیمؑ کیلئے آگ سرد ہوئی۔پھول کھِل پڑے۔چشمے جاری ہو گئے۔لَیْٹَیْمَرْ کَرَینْمَرکے لئے کیوں سرد نہ ہوئی۔فرمایا۔پھول کھلے۔چشمے جاری ہوئے۔قرآن کریم میں تو نہیں مگر یہ تو بتاؤ کہ تمہارے یہاں کی متواتر کہانی پہلاد کی کیا بتاتی ہے۔متواتر کا منکر احمق اور ضدی ہوتا ہے اور اگر اسی کے منکر ہو تو منوجی اور بھرگ سنگتا میں کیا لکھا ہے۔اسے پڑھو۔دیکھو اس کا ادھیائے۸ شلوک ۱۱۶۔’’ اگلے زمانہ میں تبش رِشی کے چھوٹے بھائی نے ان کو عیب لگایا اور تبش رِشی نے اپنی صفائی کے واسطے آگ کو اٹھایا لیکن تمام دنیا کے عمل نیک و بد جاننے والے اگن نے رِشی کا ایک بال