حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 10
: اختلاف مؤرخین کا ہے کہ کتنے تھے کتنے نہ تھے۔: حضرت ابنِ عباسؓ کا قول ہے کہ سات والی بات صحیح ہے۔کیونکہ پہلے اعداد کے ساتھ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔اس کے ساتھ نہیں فرمایا۔بلکہ یہ امر کہ عیسائیوں کے ہاں سات بڑے کلیسیا مشہور ہیں۔اس سے صاف صاف پتہ لگتا ہے کہ سا ت ہی تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰؍ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۶) ۲۴،۲۵۔ : کبھی بھی نہ کہو۔: جہاں کہیں خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا خیال نہ ہو۔نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔سب سے پہلی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی ہے۔جنہوں نے (یوسف:۱۳)(یوسف:۱۲) (یوسف:۶۲) وغیرہ الفاظ کے ساتھ دعویٰ کیا مگر کہیں وفا نہ ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰؍ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۶) اس سے بڑھ کر دُکھ کی کہانی ایک ہے۔حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما الصلوٰۃ و السلام کے نام سے عام مسلمان واقف ہیں۔مگر سلیمان علیہ السلام کے بیٹے کے نام کی وہ شہرت نہیںجو باپ دادا کی ہے۔اور پوتے کا نام تو قریباً معدوم ہے۔حدیث میں اس راز کا ذکر ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میری بیویاں بہت ہیں۔ان سے بڑی اولاد اور عظیم الشان لوگ پیدا ہوں گے۔اس دعویٰ کے ساتھ انشاء اﷲ نہ کہا۔نتیجہ خراب ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت