حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 122
سَمٰوٰت جمع ہے سَمَا کی اور اس کے معنی ہیں۔اوپر کی چیز۔اور بادل کو بھی کہتے ہیں۔رَتَقْ کے معنے ہیں جوڑنا۔بند کرنا۔قحط۔خشک سالی۔فَتَقْ ؔضدہے رَتَقْ کی۔اُس کے معنی ہیں۔پھاڑنا۔کھولنا۔سمان جسے ارزانی کہتے ہیں، دیکھو قاموس۔السَّمَآئُ: کُلُّ مَا ارْتَفَعَ اِلٰی اَنْ قَالَ وَ السَّحابُ: اَلْفَتْقُ۔اَلشَّقُّ۔فَتَقَہٗ: شَقَّہٗ، وَ الْخَصْبُ وَالرَّتْقُ ضِدُّہٗ۔پس ٹھیک ترجمہ آیت کا یہ ہوا۔کیا وہ نہیں دیکھتے ( نہیں سوچتے) کہ اوپر کی سطح ( بادل) اور زمین بند ہوتے ہیں ( یعنی خشک سالی واقع ہوتی ہے) پھر ہم انہیں کھول دیتے ہیں ( یعنی مینہ برستا ہے) اور ہر جاندار چیز کو پانی سے بناتے ہیں یعنی آسمان سے مینہ برستا ہے۔زمین سے نباتات نکلتے ہیں سمان ہوتا ہے ارزانی ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص سماوات پر جو سماء کی جمع ہے اعتراض کرے تو اُسے ایوب ۳۸ باب ۳۷ پڑھنا چاہئیے۔جہاں لکھا ہے۔کون اپنی دانش سے بادلوںکو گِن سکتا ہے ‘‘ عربی اور عبری زبانیں دونوں قریب قریب ہیں۔یہی محاورہ کتبِ مقدّسہ میں موجود ہے۔دیکھو پیدائش ۷ باب ۱۱، ۱۲۔آسمان کی کھڑکیاں کُھل گئیں۔چالیس دن اور رات پانی کی جھڑی لگی رہی۔پیدائش ۸ باب۲۔آسمان کی کھڑکیاں بند ہوئیں اور آسمان سے مینہ تھم گیا۔اوّل۔سلاطین۸باب ۳۵۔پھر جب آسمان بند ہو جائیں اور بارش نہ ہو۔حجّی ۱ باب۱۰۔آسمان بند ہے۔اوس نہیں گرتی۔۲تاریخ ۶ باب ۲۶۔اگر آسمان بند ہو جاویں اور نہ برسیں۔۲تاریخ ۷ باب۱۳۔جو میں آسمان کو بند کروں کہ بارش نہ ہو۔لوقا ۴ باب ۲۵۔ساڑھے تین برس آسمان بند رہا۔زمین حاصل دینے سے باز آئی۔اور میں نے خشک سالی کو طلب کیا۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل طبع دوم صفحہ۱۴۴) : کافر اس بات کا یقین نہیں کرتے یا یہ معنے۔کیا بار بار نظارہ نہیں کیا۔: بند۔