حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 117

… تفسیروں میں جہاں طاعون کا ذکر ہے۔ستّر ہزار موتیں بڑی سمجھی جاتی ہیں۔لیکن اب تو ہر سال لاکھوں آدمی اس سے مرتے ہیں۔مگر جب ذرا افاقہ ہوتا ہے۔لوگ اپنے میں کوئی تبدیلی نہیں کرتے۔جو مشرک ہیںوہ شرک پرجمے ہیں۔جو چور ہیں وہ چوری سے نہیں ڈرتے۔جو دغاباز ہیں وہ دغابازی پر قائم۔جو تجارت جھوٹ پر چلاتے ہیں وہ اسی اصل پر مستحکم ہیں۔جو ملازم ہیں وہ بدستور ملازمتوں میں سُست۔( بدر ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) ۳۔   کے معنے ہیں۔نئے نئے پیرایوں میں کلام بھیجتے رہے۔یہی معنے صحیح ہیں کیونکہ کلام کو میں اﷲ تعالیٰ کی صفت مانتا ہوں اور متکلم خدا کی ذات ہے اور میں قرآن مجید کو مخلوق نہیں مانتا۔میں نے کوئی منصوبہ باز ایسا نہیں دیکھا کہ اسے خدا کا خوف ہو اور موت یاد ہو۔(بدر ۲؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۳) : پیرایہ جدید ہوتا ہے۔ زیادہ تر ذکر وہی ہوتا ہے جو پہلے نبیوں کی زبان پر ظاہر ہو چکا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ۱۷۱) ۴۔  : آجکل کے لوگ ایسے بہت ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے خوف و خشیت سے ان کے دل غافل ہیں۔: جو کچھ انبیاء کو کہتے ہیں۔اس کا ذکر ہے کہ ایسی باتوں سے ٹالتے ہیں۔یہ نرم فقرہ ہے (ھود:۲۸) کہنے والے بھی گزر چکے ہیں۔