حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 113
النمل:۷۳)اور فرمایا لَکُمْ (سبا:۳۱)جس سے ظاہر ہے کہ عذاب نبی کریمؐ کی ہجرت کے بعد ایک سال آئے گا۔یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۲۱ میں اس کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی۔چنانچہ لکھا ہے کہ قیداریوں کی سال کے بعد کمر ٹوٹ جائے گی۔اس آیت میں ان باتوں کو یاد دلایا گیا ہے۔: لازمی آنے والے عذاب۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۰) ۱۳۱۔ : نماز پڑھو۔: مغرب۔عشاء۔تہجد۔: دن کے ڈھلنے سے پہلے اشراق و ضحٰی اور بعدہٗ ظہر۔: دشمنوں کی ہلاکت کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی نسخہ نہیں۔ایک صبر کرنا۔د وم نمازیں سنوار کر پڑھنا۔ہم نے بہت تجربہ کیا ہے۔: ان نمازوں سے کچھ ایسی بات ملے گی کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۰) اس سوال کے جواب میں کہ قرآنِ مجید میں تو فَسَبِّحْ ہے اس سے نماز کس طرح ثابت ہوئی فرمایا کہ جب مولیٰ علیؓ یا امام حسینؓ بولا جاتا ہے۔تو اس کا مفہوم جو قائلین شیعہ کے دلوں میں ہے وہ کس طرح کھلا۔یہ تاریخی روایات و تواتر پر مبنی ہے۔ورنہ موجودہ لوگوں نے نہ علیؓ کو دیکھا۔نہ حسینؓ کو۔مگر یقین سب کرتے ہیں۔اسی طرح نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس آیت کے اور صلوٰۃ کے جو معنے سمجھے اور جیسا کچھ اس حکم کی تعمیل کی۔اس کے لاکھوں بلکہ کروڑہا مسلمان گواہ ہیں۔اور قرآن مجید سے بھی زیادہ تواتر کے ساتھ یہ بات ہم کو پہنچی۔کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے صلوٰۃ کے معنے کیا بیان فرمائے۔پس اس کا انکار کیونکر ہو سکتا ہے۔اور کیوں ایک شخصِ واحد کی جو تیرہ سو برس بعد پیدا ہوا۔مان لیں۔کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآنِ مجید میں اس کا تفصیلی بیان