حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 110

۱۲۲۔  : ان پر اپنی کمزوریاں ظاہر ہو گئیں۔بعض باتوں میںعقل و قیاس سے کام لینا ایک قسم کی جرأت ہے۔جو میں ناپسند کرتا ہوں۔اس لئے اس کی حقیقت حوالہ بخدا ہے۔اتنا ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو چند اَوامر۔چند نواہی دیتا ہے۔خبیث روح ان کے خلاف منصوبے کرتی ہے۔ان کو تکلیف پہنچاتی ہے۔اس کے ساتھیوں کے عیش کو مکدّر کرتی ہے۔گو آخر منہ کی کھاتی ہے۔خود نبی کریمؐ کی زندگی کے واقعات سے یہ قصّہ کُھل سکتا ہے۔آپ اپنی بی بی خدیجہؓ کے ساتھ آرام سے بسر کر رہے تھے۔دعوٰیٔ نبوّت کے بعد ان کے خلاف جوش اٹھا۔جس سے اپنی کمزوریوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔اور پھر اس کمزوری کے دور کرنے کی کوئی نہ کوئی سچائی کا پتّہ اپنے اوپر لیتے ہیں۔پتّہ جلد خشک ہو جاتا ہے۔اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے اپنی طرف سے دلائل دیتے ہیں جو کمزوری ہوتی ہے۔آخر خدا سے مدد پا کر مظفر و منصور ہوتے ہیں۔: مسلمانوں میںدو مذہب ہیں۔ایک شیعہ ان کا عقیدہ ہے کہ امام جو ہوتا ہے۔وہ تمام قسم کے گناہوں سے۔صغیرہ۔کبیرہ۔عمد۔خطاء۔سہو سے معصوم ہوتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی عجیب اعتقاد ہے کہ تقیۃً خواہ بُت کے آگے سجدہ کرے یا کلمۃ الکفر کہہ لے۔یہ جائز ہے۔خوارج کے نزدیک ایک طرف اتقاء کا یہ اہتمام ہے کہ عورت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔گناہ کفر ہے۔مگر دوسری طرف خلفاء راشدین میں سے دو کو انہوں نے ہی قتل کیا۔سُنّی مذہب والوں کو عجیب عجیب مشکلات پیش آتے ہیں۔اس لئے ان میںسے کچھ لوگوں نے یہ کہا ہے کہ انبیاء سے ارتکابِ گناہ بعد نبوّت نہیں ہوتا۔قبل از نبوّت ممکن ہے ان کے متکلّمین نے کہا ہے کہ عصیؔ خلاف ورزی کا نام ہے۔اَشَرْتُ اِلَیْہِ فِی اَمَروَلَدِہٖ فَعَصَانِی۔فلاں آدمی کو میں نے مشورہ دیا تھا مگر اس نے مانا نہیں۔الفُلَانُ اَشَرْتُ اِلَیْہِ بِشَرَبِ الدَّوَائِ وَلٰکِنَّ الْمَرِیْضَ عَصَانِیْ۔یہ نہیں بولتے کہ فَصَارَ عاصیًالِیْ۔اسی طرح آدم کے حق میں عصٰی فرمایا صَارَ عَا صِیًالِیْ نہیں کہا۔میرا اپنا اعتقاد