حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 97
مفید نہیں ہو سکتی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) ۷۳۔ : مومن اور کافر کا فرق اس آیت سے ظاہر ہے کہ وہ حالتِ کفر میں تو کہتے ہیں (الشعراء:۴۲) گویا وہ اپنی تمام کرشمہ نمائی و سحر سازی کا مُول چند پیسے سمجھتے ہیں۔اور فرعون کے تقرّب کو بڑا اعلیٰ درجہ کا انعام سمجھتے ہیں یا اب حالتِ ایمان میں یہ حال ہے کہ کس جرأت سے کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) ۷۵۔ پلید رُوحوں میں بھی عذاب دینے کیلئے ایک حِس پیدا کی جاتی ہے۔مگر نہ وہ مُردوں میں داخل ہوتے ہیں نہ زندوں میں جیسا کہ ایک شخص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بدحواسی کی زندگی اس کے لئے موت کے برابر ہوتی ہے اور زمین و آسمان اس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں انہیں کے بارے میں خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔یعنی جو شخص اپنے ربّ کے پاس مجرم ہو کر آئے گا۔اس کیلئے جہنم ہے۔وہ اس جہنم میں نہ مرے گا۔اور نہ زندہ رہے گا اور خود انسان جب اپنے نفس میں غور کرے کہ کیونکر اس کی روح پر بیداری اور خواب میں تغیّرات آتے رہتے ہیں تو بالضرور اس کو ماننا پڑتا ہے کہ جسم کی طرح روح بھی تغیرّ پذیر ہے۔اور موت صرف تغیّر اور سلبِ صفات کا نام ہے۔ورنہ جسم کے تغیّرکے بعد بھی جسم کی مٹی تو بدستور رہتی ہے لیکن اس تغیّر کی وجہ سے جسم پر موت کا لفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۶ صفحہ ۲۷۴۔۲۷۵)