حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 7 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 7

تَزٰوَرُ: تَمِیْلُ۔جھُک جاتا ہے۔چونکہ وہ مقام خطِ سرطان سے اوپر ہے اور سورج خطِ سرطان کے اوپر نہیں جاتا بلکہ نیچے رہتا ہے۔اس واسطے طلوعِ آفتاب کے وقت مشرق کی طرف وہاں سے دیکھا جاوے تو سورج دائیں ہاتھ نظر آئے گا اور وقت غروب مغرب کی طرف دیکھا جاوے تو بائیں ہاتھ نظر آئے گا۔سورج کبھی ان کے سر پر نہیں آتا۔: وسعت کی جگہ۔فراخی کی جگہ میں ہیں۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام کہف کے تین پتے ہیں۔۱۔شام و روما سے بہت دُور ہے۔۲۔خطِ سرطان سے شمال کی طرف ہے۔۳۔وہ امن کی جگہ ہے جہاں دشمن کا قابو نہ تھا۔ : سورج کا سرطان تک پہنچنا اور آگے نہ جانا۔پھر جدّی تک جانا اور آگے نہ پہنچنا یہ سب اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ : اور جس کو اس کی بدی کے سبب گمراہ کرتا ہے۔دوسری جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔(البقرۃ: ۲۷) فاسقوں کے سوائے وہ دوسرے کو گمراہ نہیں کرتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰؍ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۶) : ایسے ملک میں گئے کہ مشرق کی طرف مُنہ کر کے دیکھو تو آفتاب دائیں رہ جائے۔مغرب کی طرف تو بائیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۶۴ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۹۔   آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو اصحابِ کہف کا حال منکشف ہوا اور آپؐ نے انہیں دیکھا  : راقد۔سونے والے۔سخت ہی ٹھہرے ہوئے۔دراصل وہ تو ٹھہرے ہوئے تھے